سوات میں بجلی کی ابتر صورتحال کا ذمہ دار امیر مقام ہے،ارکان اسمبلی

Advertisement
دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

سوات (زما سوات ڈاٹ کام ۔04اگست 2017ء ) سوات میں جاری بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کے خلاف ایم پی اے فضل حکیم کی قیادت میں واپڈا آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ،مظاہرے میں تحریک انصاف کے کارکنوں،بلدیاتی نمائندوں اور لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی جبکہ اس موقع پر ایم پی اے عزیز اللہ گران بھی موجود تھے۔مظاہرین نے مینگورہ سیدو شریف روڈ کو ہر قسم ٹریفک کے لئے بند رکھا ۔مظاہرے سے خطاب کر تے ہوئے مقررین نے کہا کہ سوات کے عوام کی جانب سے 100فیصد بلوں کی ادائیگی کے باوجود ظالمانہ اور بے رحمانہ لوڈشیڈنگ کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ دو دو ،تین تین گھنٹے مسلسل لوڈشیڈنگ بالکل قابل قبول نہیں اور نہ ہی آر سی سی ،پی ڈی سی کوقبول کرنے کیلئے تیار ہیں۔مقررین نے کہا کہ مزکزی حکومت نے صوبہ خیبرپختونخوا میں وفاقی محکموں کے اصلاح کی ذمہ داری امیر مقام کو سونپی تھی،تاہم امیر مقام نے سوات میں بجلی کا نظام مکمل طور پر تباہ کر کے سوات کے عوام کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی ضلعی حکومت اور پارٹی عہدیدار بھی سوات کے تڑپے ہوئے عوام کے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور وہ اُلٹاصوبائی حکومت اور ممبران اسمبلی پر الزامات لگا تے ہیں انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی مکمل ذمہ داری ن لیگ پر عائد ہوتی ہے بعد ازاں چیئرمین ڈیڈک سوات کی قیادت میں رہنماؤں اور ایس ای پیسکوکے درمیان مذکرات ہوئے جن میں فیصلہ کیا گیا کہ آر سی سی ،پی ڈی سی کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گاجبکہ ٹیوب ویلوں پر خصوصی طور پر صبح اور شام دو دو گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی اسطرح فیصلہ کیا گیاکہ لوڈشیڈنگ کو ہر ممکن حد تک کم کر دیا جائے گااور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے گی۔

تبصرہ کریں

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں