آپریشن ردالفساد اور آئی جی پی کا خط

Advertisement
دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

آپریشن ردالفساد اور آئی جی پی کا خط | پروفیسر سیف اللہ خان

پورا ایک سال قبل ستائیس جولائی 2016ء کے اخبارات نے یہ خبر شائع کی تھی کہ صوبائی انسپکٹر جنرل پولیس نے مرکزی حکومت کو ایک خط کے ذریعے تجویز دی تھی کہ ملک کے اندر وسیع پیمانے پر سمگلنگ سے آنے والی مختلف اشیا کی روک تھام کے لیے محکمہ کسٹم (مرکزی محکمہ) اور صوبائی محکمہ پولیس کی مشترکہ چیک پوسٹیں جو پندرہ اکتوبر 1986ء کے ایک حکم کے تحت قائم تھیں اور جن کو تیس جولائی 2005ء کے ایک آرڈر کے ذریعے ختم کیا گیا تھا، پھر بحال کی جائیں۔ جولائی 2005ء کو کن لوگوں کی حکومت تھی یہ سب جانتے ہیں؟ آج جن حالات کا ہم اپنے ملک کے اندر سامنا کررہے ہیں، پچانوے فی صد حکمرانوں کے پیدا کردہ ہیں۔ کمزور داخلی و خارجی پالیسیاں حکمران ہی بناتے ہیں۔ مذہبی طبقات سمیت ہر طبقے کی بھلائی میں مدد اور برائی میں ممانعت کا کام بھی حکمرانوں ہی کا ہوتا ہے۔ قوم کی مجموعی تربیت اور ذہن سازی بھی حکومتوں ہی کا کام ہوتا ہے۔ انسپکٹر جنرل سطح کے پولیس کمانڈر نے مرکزی حکومت کو جب تحریری تجویز دی، تو اس کی پشت پر ناقابل تردید حقائق ہوں گی۔ اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ سرمایہ دار پرست سرکار نے آئی جی پی کے خط پر مثبت کام کیا ہے کہ نہیں؟ ویسے ہمارا کاروباری کلچر اور مزاج ایسا ہے کہ اول تو سیاسی حکمران مارکیٹ کے منفی کردار کو سہارا دیتے ہیں اور اگر ایسا نہ کرتے ہوں، تو الراشی والمرتشی والے ماحول میں تادیبی قوانین کے باوجود ہر قسم کی کاروباری بددیانتیاں جاری رکھواتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ 1986ء کے حکم نامے کے باوجود وطن عزیز میں سمگلنگ کا کاروبار جاری رہا۔ ٹرکوں، بسوں، ہر قسم کی موٹر گاڑیوں جیسی بڑی مشینوں سے لے کر خطرناک فوجی معیار کے اسلحے کے ڈھیر کے ڈھیر وطن عزیز میں پہنچ گئے۔ البتہ سرحدات پر فوج کی طرف سے زیادہ سخت نگرانی سے اُمید ہے کہ ان وارداتوں میں کمی آئی ہو، لیکن سوات کی مارکیٹ تو یہ بتاتی ہے کہ این سی پی اور کٹ گاڑیوں کی بیرون ملک سے درآمد کم نہ ہوسکی ہے۔ غالباً یہ گاڑیاں افغانستان سے ہوکر نہ آتی ہوں گی۔ مارکیٹ کی طاقت کو لینن اور سٹالن ہی کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اور وہ ہمارے ساتھ موجود نہیں۔ حجاج بن یوسف نے مساجد کے اندر گردنیں اڑادیں، تب حالات بہتر ہوئے۔ آپریشن رد الفساد کے تحت آئی جی پی کے خط پر مرکزی حکومت کی کارروائی پر بھی نظر ڈالنی چاہئے۔ کیوں کہ پاکستانی معاشرے میں مختلف عناصر حکومت پر غالب آگئے ہیں۔ خدانخواستہ، خدانخواستہ اگر ان عناصر کو مزید پنپنے کا موقعہ دیا گیا، تو خاکم بدہن شدید ترین نقصانات ہوں گے۔ پاکستانی دولت مندوں نے ملک سے اپنے سرمائے کو باہر منتقل کرنے کے بہت مؤثر طریقے دریافت کرلئے ہیں اور کامیابی کے ساتھ پیسہ ملک سے باہر بھیجا جا رہا ہے۔ برے لوگ بھی مسلسل اقتدار میں آرہے ہیں۔ ساتھ ساتھ نا اہل افراد کی بہتات بھی ہے، لیکن مقامِ شکر ہے کہ ملک میں اچھے افراد کی کمی بھی نہیں۔ اس لیے میری یہی دعا ہے کہ آپریشن ردالفساد کے تحت سرکاری، نیم سرکاری اور خود مختار اداروں سے اُن کے قواعد اور قوانین کے تحت بہترین کام لیا جائے اور اُن کی کارکردگی کی جانچ کا نظام قائم کیا جائے، جیسا کہ اوپر عرض کرچکا ہوں کہ 1986ء کے حکم کے باوجود 2005ء میں سمگلنگ جاری رہی ہے۔ 1986ء کے حکم کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوگا، غالباً سمگلروں اور اُن سرپرستوں کو کھل کر کھیلنے میں دقت تھی، اس لیے انہوں نے 1986ء والے حکم ہی کو کالعدم کروا دیا۔ آج کل چین کی مصنوعات ہمارے لیے فساد کا باعث ہیں۔ انٹیلی جنس اور کسٹم انٹیلی جنس کا ایک شعبہ چین کی اشیا پر بھی مؤثر نظر رکھے، تو بڑی اچھی بات ہوگی۔ جو بھی کاروبار ہو، قوانین کے اندر ہو۔ پاکستان میں نظامِ تعلیم، نظامِ ابلاغِ عامہ اور دوسرے خبائث دیدہ دانستہ پوری سنجیدگی کے ساتھ پھیلائے جا رہے ہیں۔ عوام کی مثبت تربیت سے چشم پوشیاں اور منفی تربیت کا اہتمام وانصرام ہو رہا ہے۔ بڑی وجوہات میں عمدہ بیوروکریسی (کلرک سے لے کر سیکرٹری تک) کا فقدان، مارکیٹ کی بے پناہ قوت، سیاسی مقتدرہ کی غیر سنجیدگی اور غلط اقدامات شامل ہیں۔ بازاروں اور گلیوں کے اندر بیرونی ممالک کی اشیا کو بے رحمانہ طریقے سے ضبط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ سرکاری ملازمین کی ہر طرح اور ہر طرف سے حفاظت ضروری ہے۔ سیاسی میراثیوں نے تو حالات اس حد تک خراب کردیئے ہیں کہ ہر کوئی سرکاری ملازمین پر چڑھ دوڑتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے ملازمین میں برے لوگ بھی ہوں گے، لیکن سب برے نہیں ہوتے۔ حال ہی میں نوجوان ڈاکٹرز کو عام مزدوروں کی طرح ہڑتالیں کرنی پڑیں۔ یہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامیوں کی وجہ سے تھا کہ انہوں نے عوام کا دماغ اتنا خراب کردیا ہے کہ ہسپتالوں میں کسی مشین، آکسیجن یا کسی دوا کی عدم دستیابی یا مرض کی شدت سے مرنے والے کا بدلہ ڈاکٹرز سے لیا جاتا ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی کے مسائل کو ڈاکٹرز کے ذمے ڈالا جاتا ہے۔ آپریشن ردالفساد کا دورانیہ محدود نہیں ہونا چاہئے۔ یہ ایک مسلسل اور نہ ختم ہونے والا عمل ہونا چاہئے۔ اس طرح اس کا دائرہ عمل (سکوپ) بھی لا محدود ہونا چاہئے اور اس کے تحت افسران کو سزا دینے کا اختیار ہونا چاہئے کہ انہوں نے جہاں کہیں مجرم پکڑلیا، اُسے فوری طور پر سزا دیں۔ بے شمار جرائم ایسے ہیں جن کو بار بار کیا جاتا ہے۔ لمبی لمبی عدالتی کارروائیاں بھی جرائم کو جاری رکھنے میں معاون ہیں۔ رد الفساد کے تحت اس پر بھی غور کرنا چاہئے۔ کئی جرائم میں تو سزا کسی کو ملتی ہی نہیں۔ اس لیے بہترین بات ہوگی کہ مؤثر انتظام کے سخت جسمانی مزدوری والے کاموں (مثلاً نہروں، ڈیموں کی کھدائی، کان کنی) سڑکوں اور گندی نالیوں کی صفائی کا کام مجرمین سے لیا جائے۔ سنا ہے کہ سکھ لوگ معمولی مجرموں سے گورودواروں میں عبادت گزاروں کے جوتے پالش کرانے کا کام لیتے ہیں۔ مجرموں کا ’’اگوسٹرپ‘‘ ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس قسم کے طریقے کمیونسٹ ممالک میں مجرموں کی سزا اور تربیت کے لیے موجود ہیں، جن کو ’’اصلاحی کیمپس‘‘ کہتے ہیں۔ چھوٹے جرائم کے لیے چھوٹی سزائیں نظریۂ عدل کے مطابق غلط نہیں ہیں۔ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں سو آدمیوں کے قاتل کی پھانسی پر شور مچاتی ہیں، لیکن سو گھروں کے اجڑنے پر آہ تک نہیں کرتیں۔ اُن تنظیموں کا نظر انداز کرنا ہی اچھا ہے۔ فوری اور مناسب سزا اور کارکردگی مانیٹرنگ ردالفساد میں ممد و معاون ہوں گی۔ سمگلنگ کی اشیا کا سرحدوں اور چیک پوسٹوں پر رُکوانے کے ساتھ مارکیٹ سے زبردستی اٹھوانا بھی ردالفساد کا ایک حصہ ہو۔ اُن ابابیلوں کا مار گرانا بھی لازمی ہے، جو نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، دوسری بھاری اشیا اور مشینیں، کٹ گاڑیاں وغیرہ چونچوں میں پکڑ کر بادلوں میں سے گزر کر لاتی ہیں اور کسی کو نظر نہیں آتیں۔

تبصرہ کریں

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں