خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے سماجی تنظیموں نے ایکا کرلیا

Advertisement
دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

سوات (زما سوات ڈاٹ کام ۔29اگست 2017ء )دی اویکننگ آرگنائزیشن ،خو ئندو جرگہ اورگرلزیونائیٹڈفار ہیومن رائٹس نے خواتین کی حقوق اوران کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات اٹھانے اور خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کا مطالبہ کردیا،اس حوالے سے دی اویکننگ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام سوات پریس کلب میں سوات میں خواتین کی حقوق کے تحفظ اور غیرت کے نام پر قتل ، تشدد اور خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اویکننگ آرگنائزیشن کے پروگرام آفیسرشمشیر،دستگیر لیگل ایڈ سنٹر سوات کی سینئر کوارڈینٹر غزالہ رحمن ، خویندو جرگہ کی چیئرپرسن تبسم عدنان، حدیقہ بشیر ، ایڈووکیٹ سہیل سلطان ، حمیرا شوکت ،سول سوسائٹی ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی،پریس کانفرنس میں ملک بھر اور خاص کر سوات میں خواتین کی غیرت کے نام پرقتل کے بڑھتے ہو ئے واقعات کی پر زور مذمت کی اور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے حکومت نے ابھی تک کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے ہیں ،سوات میں سال 2017میں خواتین پر تشدد کی شرح بہت زیادہ ہے ،جنوری سے لے کر اگست تک دی اویکننگ نے اپنے طور پر جو ڈیٹا اکٹھا کیا ہے اس کے مطابق خواتین کے قتل اور خودکشیوں کے 38 واقعات رپورٹ ہوئے،انہوں نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل کے فتویٰ کے مطابق غیرت کے نام پر قتل ایک غیر اسلامی فعل ہے اور قاتل زمین پر فساد برپا کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں، پریس کانفرنس میں موجود سول سوسائٹی ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر افراد نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت ملاکنڈ ڈویژن سمیت پاٹا میں موجود عورت مخالف روایات کی روک تھام ایکٹ 2011 ء گھریلو تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون او ر کم عمری و جبری شادیوں کے قانون کے فوری نفاذکیلئے موثر اور سنجیدہ اقدامات اٹھائیں تاکہ خواتین کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ا و رغیرت کے نام پر قتل کے وحشیانہ واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

تبصرہ کریں

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں