مدعی سست

Advertisement
دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

مدعی سست | رعایت اللہ فاروقی

وہ 31 اگست کا روز تھا جب خوابوں کی دنیا سے آنے والی شہزادی لیڈی ڈیانا پراسرار موت کا شکار ہو کر خوابوں کی دنیا میں لوٹ گئی۔ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں اس شاہی خاندان میں اجنبیت کی بھینٹ چڑھ چکی تھی جہاں اس کی آمد کا نظارہ لاکھوں برطانوی شہریوں نے شاہی محل کے اطراف کھڑے ہوکر کیا تھا۔ انسانی تاریخ میں تاج و تخت کے لئے بیٹوں نے باپ اور بھائیوں نے بھائیوں کے جس طرح گلے کاٹے ہیں وہ کوئی سربستہ راز تو نہیں۔ سو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کس قدر اذیت ناک رہی ہوگی وہ صورتحال جب خوابوں کی وہ شہزادی اپنے لئے برٹش راج کی ملکہ ہونے کا امکان ٹھکرانے پر مجبور ہوئی۔ ان آخری ایام میں وہ جس طرح آزادانہ گھوم پھر رہی تھی اس سے عیاں تھا کہ وہ کھلی فضا کے لئے ترس گئی تھی۔ وہ کھلی فضا جس کا سب سے بڑا تحفہ آزادی کا احساس ہوتا ہے، وہ آزادی جو انسانی جبلت کا سب سے بنیادی تقاضا ہے، وہ جبلت جو سب سے بڑا انسانی اتفاق رائے ہے۔31 اگست 1997ء کی اس رات اس کی گاڑی پیرس کی کھلی فضاؤں میں دوڑتے ہوئے پونٹ ڈی للما ٹنل میں داخل ہوئی تو اس کے لئے جبلت، آزادی اور احساسات کا سفر تمام ہو گیا۔ پیچھے صرف کہانیاں اور اس کے دو بیٹے رہ گئے جو ساری زندگی ماں کے لمس اور اس کی موت سے جڑے رازوں کی حفاظت کرتے گزاریں گے کہ شاہی درباروں کے تقاضے یہی کرتے آئے ہیں۔ لیڈی ڈیانا کو گزرے بیس برس ہوگئے اور اس کی موت کا معمہ معمہ رہنے پر مصر ہے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ جب یہی 31 اگست اس بار طلوع ہوا تو ہمارے ہاں سیاست کی اس شہزادی کی موت پر معمے کی عدالتی مہر ثبت کر گیا جو ہاریوں اور غریبوں کی دلجوئی سے جانی جاتی تھی۔ لیڈی ڈیانا کی دلکشی اس کا سب سے بڑا حوالہ تھی تو محترمہ بینظیر بھٹو کی دلجوئی عام آدمی کے لئے ان کا تعارف۔ اگر محترمہ جون ایلیا کے اس شعر میں ایک حرف کا تصرف کرکے لیڈی ڈیانا کو سناتیں تو برمحل ہی ہوتا

کتنی دلکش ہو تم، کتنی دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

لیکن سوال تو یہی ہے کہ کیا ایسے لوگ مرجاتے ہیں ؟ نہیں ! انہیں تاریخ زندہ رکھتی ہے اور تب تک رکھے گی جب وہ دن نہ آجائے جب انسانوں کو درپیش تمام معمے حل ہوجائیں گے۔ لیڈی ڈیانا زندگی کے آخری ایام میں اپنوں کے لئے اجنبی ہوگئی تھی۔ محترمہ بینظیر بھٹو موت کے فورا بعد سے اپنوں کے لئے اجنبی ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہ اجنبیت نہیں تو کیا ہے کہ جب جج ان کے مقدمہ قتل کا فیصلہ سنا رہا تھا تو کمرہ عدالت میں ان میں سے کوئی بھی موجود نہ تھا جن کا اصرار ہے کہ ’’ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘‘ محترمہ کے مقدمہ قتل کا فیصلہ سننے کے لئے ہر گھر تو کیا اسلام آباد کے زرداری ہاؤس سے بھی کوئی بھٹو نہیں نکلا۔ بات اتنی سادہ بھی نہیں کہ کمرہ عدالت میں پیپلز پارٹی کا کوئی رہنماء موجود نہیں تھا۔ اجنبیت کی اس داستان کے اوراق تو ان 1825 ایام میں بکھرے پڑے ہیں جو اس پانچ سالہ اقتدار کے ایام ہیں جو محترمہ کے قتل نتیجے میں میسر آیا تھا۔ ایف آئی اے، سکاٹ لینڈ یارڈ اور اقوام متحدہ کمیشن رپورٹس میں اگر کوئی قدر مشترک ہے تو یہ کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے خون ناحق کے صلے میں ملنے والا اقتدار ہی ان کے قتل کے معمے کو حل کرنے میں رکاوٹ بنا رہا۔ وہ اقتدار جس میں صدارت آصف علی زرداری اور وزارت عظمیٰ یوسف رضا گیلانی کے پاس تھی، وہ اقتدار جس میں آصف زرداری کو بچانے کے لئے یوسف رضا گیلانی نے اپنی وزارت عظمیٰ قربان کردی تھی، اپنے قائد کے لئے گیلانی کے جذبہ قربانی کو سرخ سلام لیکن کیا ہے اس سوال کا کوئی جواب کہ یہی جذبہ قربانی محترمہ کے اصل قاتلوں کو بے نقاب کرنے کے کام کیوں نہ آیا ؟

سابق ڈی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ اپنے شائع شدہ مضمون میں لکھ چکے ہیں کہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے تحقیقات میں تعاون سے مکمل اجتناب برتا، محترمہ بینظیر بھٹو کے آخری ایام اور ان کے قتل سے جڑی اہم دستاویزات انہوں نے رحمان ملک سے مانگیں تو وہ فراہم نہیں کی گئیں۔ اقوام متحدہ کمیشن کے سربراہ اپنے ٹی وی انٹرویو میں کہہ اور کتاب میں لکھ چکے کہ رحمان ملک اس اہم قتل کی تحقیقات میں تعاون گریز کرتے رہے۔ وہ بہت سے اہم سوالات کے جوابات دینے سے یہ کہہ کر انکار کرتے رہے کہ اس پر پھر کبھی بات کر لیں گے۔ سب سے اہم یہ کہ اقوام متحدہ رپورٹ میں صاف لکھا ہے کہ اگر سیاسی عزم ہو تو قتل کا یہ مقدمہ حل ہو سکتا ہے۔ جب رپورٹ جاری ہوئی تب حکومت پیپلز پارٹی کی ہی تھی سو سیاسی عزم انہی کے ہاں ناپید تھا۔یہ ناپید سیاسی عزم کا ہی مزید ثبوت ہے کہ مسلم لیگ کے گزشتہ چار سالہ دور حکومت میں بھی پیپلز پارٹی اس مقدمہ قتل کے حوالے سے خاموش رہی ہے اور اب جب فیصلہ سنایا جا چکا تو پیپلز پارٹی کی جانب سے کوئی پریس کانفرنس نہیں ہوئی، ردعمل کے لئے ٹویٹر کا سہارا لیا گیا۔ ’’بی بی ہم شرمندہ ہیں، تیرے قاتل زندہ ہیں‘‘ جیسے سیاسی سلوگن اپنی جگہ لیکن جب کرپشن کے مقدمات میں عدالت کے ساتھ دوڑ دوڑ کر اسے تھکانے کی بات کرنے والے محترمہ کے مقدمہ قتل میں ’’مدعی سست‘‘ کا نمونہ بن جائیں تو یقین کر لینا چاہئے کہ محترمہ کے قاتل زندہ رہیں گے اور شرمندہ کوئی نہ ہوگا !

تبصرہ کریں

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
Main menu