سوات،شرح خواندگی کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری

Advertisement
دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

سوات (زما سوات ڈاٹ کام ۔08ستمبر2017ء )سوات میں شعبہ تعلیم کی ترقی کے لئے کام کرنے والی فلاحی تنظیم الف اعلان نے شرح خواندگی کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کردی ، رپورٹ کے مطابق سوات میں لڑکوں کی خواندگی کا تناسب 60فیصد جبکہ لڑکیوں کا صرف 40فیصد ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں خواندگی کا تناسب 53فیصد ، پنجاب میں ، 62فیصدہے جو پچھلے سال کی نسبت ملکی سطح پر شرح خواندگی میں دو فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے، تعلیم کی فروغ کیلئے سرگرم ڈاکٹر جواد نے کہا ہے کہ اس وقت پورے ملک میں 22.6ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ خواندگی کے حوالے سے ریاست پاکستان کی آئینی ذمہ داریاں ہے کہ وہ خواندگی کو بڑھائے،انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 37(ب) اور( ج) یہ کہتی ہے کہ حکومت کم سے کم ممکنہ مدت کے اندر نا خواندگی کا خاتمہ کریگی اور مفت و لازمی ثانوی تعلیم مہیا کریگی ،فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو عام طور پر ممکن الحصول اور اعلی تعلیم کو میرٹ کی بنیاد پر سب کیلئے مساوی طور پر قابل دسترس بنائیگی جبکہ آرٹیکل25 الف یہ کہتی ہے کہ ریاست پانچ سے سولہ سال تک کے عمر کے تمام بچوں کیلئے مذکورہ طریقہ کار کے مطابق قانون مرتب کرے گی،انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت تعلیم نے ملک میں تعلیم کی صورت حال کو بہتر بنانے کیلئے 2013میں پانچ سالہ نیشنل پلان آف ایکشن شائع کیا اس پلان کے مطابق حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دو سال کے اندر شرح خواندگی میں پچاس فیصد بہتری لائی جائیگی،الف اعلان کی رپورٹ کے مطابق2013کے انتخابی منشور میں سیاسی جماعتوں نے شرح خواندگی بڑھانے کیلئے وعدے کئے جسے تا حال پورا نہیں کیا گیا، الف اعلان رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دس سال اور اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں خواندگی کا تناسب 58فیصد،شہری علاقوں میں74فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 49 فیصد ہے اس وقت خیبر پختونخوا میں خواندگی کا تناسب 53فیصد،پنجاب میں 62فیصد،سندھ میں 55فیصد اور بلوچستان میں 41فیصد ہے، شرح خواندگی کے لحاظ سے اسلام آباد ،راولپنڈی آگے جبکہ خیبر پختونخوا کا ضلع تورغر اور بلوچستان کا ضلع قلعہ عبداللہ سب سے پیچھے ہیں ،انہوں نے انکشاف کیا کہ2015 کے مقابلے میں 2016میں شرح خواندگی میں دو فیصد کمی واقع ہوئی ہے ،

تبصرہ کریں

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں