ڈانسنگ طالبان

Advertisement
دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

ڈانسنگ طالبان | فضل محمود روښانؔ

مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جب ہم ماہنامہ ’’سوات‘‘ کا پہلا شمارہ والئی سوات کو دینے کے لیے اُن کے محل سیدو شریف گئے تھے۔ یہ جنوری 1987ء کی بات ہے۔ ابھی ہم اُن کے محل میں داخل ہی ہوئے تھے کہ ہمیں میاں جی ’’حضرت یونس‘‘ ملے۔ ہمارے ہاتھ میں ’’سوات‘‘ کا شمارہ دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ دیر سے آئے ہیں۔ والئی سوات اُٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے ہیں۔ ملاقات تو ممکن نہیں، لیکن چلئے، میں کچھ کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر میگزین کو انہوں نے ہمارے ہاتھ سے لیا اور دوسرے دروازے سے اُن کے گھر کی جانب چلے گئے۔ میاں جی، والئی سوات کے وفادار ملازم تھے۔ تھوڑی دیر بعد والئی سوات محل کے دروازے میں نمودار ہوئے۔ دہلیز سے باہر قدم نہیں رکھا بلکہ دروازے میں کھڑے ہوکر ہم سے باتیں کرنے لگے۔ اصل میں ’’ماہنامہ سوات‘‘ کے پہلے شمارے میں ہم (یعنی راقم اور فضل ربی راہیؔ ) نے والئی سوات کا انٹرویو چھاپا تھا۔ والئی سوات کی یہ عادت تھی کہ وہ ٹھیک دن گیارہ بجے محل سے گھر چلے جاتے اور اس کے بعد کسی سے ملاقات نہ کرتے۔ وہ تو میاں جی کی مہربانی تھی کہ ہماری وجہ سے اُن کو دروازے تک لے آئے۔ والئی سوات وقت کے بہت پابند تھے اور اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر سختی سے کار بند بھی رہتے تھے۔ وقت گزرتا رہا اور زندگی کی گہما گہمی میں ہم ایسے پھنس گئے کہ سال پر سال بیت گئے۔ اب عرصہ ہوا ہے کہ والی صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں اور میاں جی بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ گذشتہ دنوں سوشل میڈیائی صفحہ ’’سوات نامہ‘‘ پر ایک تصویر شرب گل کے نام سے وائرل ہوئی، جس کو دیکھ کر میں نے اعتراض کیا کہ یہ شرب گل کی تصویر نہیں ہے۔ میرے دیکھا دیکھی شیر محمد خان عرف رورئ نے بھی انکار کیا کہ یہ شرب گل کی تصویر نہیں ہے۔ شرب گل کے علاقے فتح پور کے لوگوں نے بھی میری تائید کی کہ یہ کسی اور کی تصویر ہے۔ بعد میں پرنس عدنان باچا کے دست راست اور میاں جی کے صاحب زادے عمر حیات میاں جی نے مجھ سے رابطہ کیا کہ کسی روز آپ تشریف لے آئیں، والی سوات کے البم میں شرب گل کی تصویر خود دیکھ لیں۔ ابھی چند ہفتے پہلے عمر حیات میاں جی میرے پاس خود آئے اور بڑی محبت سے مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ عمر حیات میاں جی بڑے پیارے انسان ہیں۔ حالات و واقعات پر اُن کی گہری نظر ہے۔ سوات کی تاریخ سے بھی آشنا ہیں۔ وہ باتیں اس انداز سے کرتے ہیں کہ سننے والا چاہتا ہے وہ بولتے رہیں اور میں سنتا رہوں۔ انہوں نے والئی سوات اور ولی عہد میاں گل اورنگ زیب کی طرزِ حکومت، اُن کی سوچ اور عادات پر مجھ سے سیر حاصل گفتگو کی۔ اُن کی زندگی کے وہ گوشے جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں، میرے سامنے لاتے رہے۔ عمر حیات میاں جی، عدنان اورنگزیب کے سچا خیر خواہ اور مخلص ساتھی ہیں۔ انہوں نے میرے سامنے والئی سوات کا تصویروں والا ذاتی البم رکھا اور ایک ایک تصویر پر سیر حاصل گفتگو کرتے گئے۔ یہ وہ تصاویر تھیں جنہیں والئی سوات نے خود اپنے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیا تھا۔ مذکورہ البم میں سیکڑوں تصاویر تھیں اور ہر تصویر کے نیچے والئی سوات نے ضروری یادداشت کے طور پر کچھ لکھا بھی تھا۔ والئی سوات نے اپنی زندگی میں مجھے تاریخِ ریاست سوات کی ایک کاپی تحفتاً دی تھی اور اُس پر کچھ اپنے ہاتھ سے لکھا بھی تھا۔ اس وجہ سے میں اُن کی طرزِ تحریر کو جانتا ہوں۔ جب البم میں شرب گل والی تصویر سامنے آئی، تو اس پر والئی سوات کی تحریر کے بجائے کسی اور کی تحریر تھی۔ لکھا تھا ’’ڈانسنگ طالبان‘‘ یہ اُس وقت کے ’’چٹی طالبان‘‘ تھے جو دو قطاروں میں کھڑے تھے۔ آگے ایک پنجابی نما لباس میں ملبوس ایک آدمی زمین پر بیٹھا ہوا تھا، جس کے متعلق کچھ بھی نہیں لکھا گیا تھا۔ عمر حیات میاں جی نے اس کے بارے میں کہا کہ یہ شرب گل ہے۔ لیکن میں نے نفی میں جواب دیا کہ یہ وہ نہیں ہے اور بات پھر وہیں کی وہیں رہ گئی۔ بعد میں انہوں نے محکمہ تعلیم ریاست سوات کا وہ ریکارڈ میرے سامنے پیش کیا جو والئی سوات کے لیے لکھا گیا تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ والئی سوات کو محکمہ تعلیم کا ایک ایک فرد معلوم تھا اور وہ اُن کے بارے میں جانتے تھے۔ اس کے بعد میں نے والئی سوات کے ماجب خوروں کے وہ ریکارڈ دیکھا جو ریاست سوات کے ہر گاؤں، قصبہ اور شہروں میں رہتے تھے اور جن کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو والئی سوات کے منظورِ نظر تھے۔ اس کے بعد ریاست سوات ملیشا (فوج) کے بارے میں ریکارڈ میرے سامنے لایا گیا، جو پورے کا پورا میں نے دیکھا۔ پھر والئی سوات کے ذاتی اخراجات کی وہ تفصیل دیکھی جس میں ایک ایک پائی کا حساب درج تھا۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ ہماری ریاست سوات کے حکمران کتنے سادہ زندگی بسر کر رہے تھے جن کے زیادہ تر اخراجات مہمان نوازی اور رعایا کی آؤ بھگت کے حوالہ سے تھے۔ قارئین، میں ذاتی طور پر عمر حیات میاں جی کا ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے علم میں اضافہ کیا اور اُس ریکارڈ تک میری رسائی ممکن بنا دی، جو عام آدمی کے دسترس سے باہر ہے۔

نوٹ : زماسوات ڈاٹ کام کا مصنف کے متن سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرہ کریں

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں