سنڈیا باباجی

Advertisement
دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

میاں گل عبدالودود (بانئی جدید ریاست سوات) اپنے مصاحبوں کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی اثنا میں ایک معمر عورت ’’شلمانو ابئی‘‘ لاٹھی ٹیکتے ہوئے شاہی دربار آگئی۔ بادشاہ صاحب کے حضور میں اپنا کل اثاثہ (سونے کے زیورات) پیش کرتے ہوئے عاجزانہ انداز میں کہہ گئی کہ ’’حضور، مجھ سے یہ لے لیں، لیکن میرا شوہر مجھے واپس دے دیں۔ ہمارے دشمنوں نے آپ کو غلط اطلاع دی ہے۔ آپ ہمارے گھر کی تلاشی لے لیں۔ ہمارے گھر میں کوئی اسلحہ نہیں ہے۔ اگر ہمارے گھر سے اسلحہ برآمد ہوا، تو مجھے بھی میرے شوہر کے ساتھ موت کے گھاٹ اُتار دیں۔‘‘ شلمانو ابئی کو اپنے شوہر سے بڑا پیار تھا وہ اپنے شوہر کو بچانے کے لیے چکیسر سے سیدوشریف آئی تھیں اور بادشاہ صاحب کے حضور التجا کررہی تھیں۔ ان کے شوہر اپنے علاقے کے ایک بہت بڑے روحانی پیشوا ’’سنڈیا باباؒ ‘‘ کے نام سے جانے اور پہچانے جاتے تھے۔ دور دراز علاقوں سے لوگ آکر اُن سے روحانی فیض حاصل کرتے تھے اور اُن سے بیعت لیتے تھے۔ اُن دنوں چکیسر گاؤں کی کمر مسجد میں لوگ اُن سے وظائف لینے کے لیے جوق درجوق آئے تھے۔ وہ اس وقت بہت بوڑھے ہوچکے تھے۔ اُن کے مریدوں میں ڈھیر سارے نامی گرامی لوگ ہو گزرے ہیں۔ ان میں ایک ’’لیونو پیر صیب‘‘ بھی گزرے ہیں جو آخری وقت تک اُن کے روحانی گدی سنبھالے ہوئے تھے۔ اُس وقت یہ اپنے پیر (سنڈیا باباؒ ) کے گھوڑے کا مہار پکڑ کر اُن سے آگے آگے جایا کرتے تھے۔ میرے دوست سید طہار خان ایڈووکیٹ مرحوم اور افسر خان کے والد بزرگوار زبرنوش خان نے بھی اُن سے بیعت لی تھی۔ اپنے دور کے ایک بہت بڑے ولی اللہ خان بہادر ؒ المعروف مارتونگ باباجی بھی اُن سے ملے تھے۔ دراصل جب سنڈیا باباؒ کی شہرت چہار سو پھیلنے لگی، تو کسی نے یہ افواہ اُڑائی کہ یہ حکومت وقت (بادشاہ صاحب) کا تختہ الٹنے کے لیے اسلحہ جمع کر رہے ہیں اور اپنے مریدوں کے ہمراہ سیدوشریف پر حملہ کرنے والے ہیں۔ یہ خبر اور افواہ بادشاہ صاحب کے کانوں تک بھی پہنچی۔ انہوں نے اپنے کشر وزیر کے کمان میں بابا جی کو حراست میں لینے کیلئے فوج کا دستہ روانہ کیا اور اس عمل کو خفیہ رکھا گیا۔ تاکہ مشن ہر لحاظ سے کامیاب ہو۔ سنڈیا باباجی ؒ کو دن کے اُجالے میں کمر مسجد چکیسر سے عبادت کے دوران میں اُٹھایا گیا۔ اُنہیں چارپائی پر ڈالا گیا اور ایک قیدی کی شکل میں اُنہیں جب لے جایا گیا، تو آمیز خان آف چکیسر نے احتجاجاً کہا کہ’’اے لوگو! بابا کو پکڑ کر لے جایا جارہا ہے۔‘‘ اس پر سنڈیا باباؒ نے کہا کہ ’’آپ لوگ بے فکر رہیں۔ میں بے قصور ہوں۔ میں نے حکومت کے خلاف کچھ نہیں کیا ہے۔ میں نے لوگوں کو کسی کے خلاف نہیں اُکسایا ہے۔اس لیے باچا صاحب مجھے جلد واپس آنے دیں گے۔‘‘ اسلام پور کے اینگر جمعدار کی بیٹی جو اُس وقت چھوٹی بچی تھی،کا کہنا ہے کہ اسلام پور کے میاگان نے میرے والد سے دغا بازی کی اور قرعۂ فال میرے والد کے نام نکالا۔ گو کہ میرا والد ریاستی فوج میں تھا لیکن وہ باباجی ؒ کو مارنا نہیں چاہتا تھا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ باباجی ؒ کو میں کونڈئ میں دودھ پلاتا تھا۔ کونڈی لکڑی سے بنا ہوا ایک برتن تھا۔ اس طرح افسر خان آف چکیسر کی باتوں سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سنڈیا باباجی ؒ کو جب چکیسر سے لایا گیا تھا، تو اُنہیں فوری طور پر نہیں مارا گیا تھا بلکہ کافی دنوں بعد اُنہیں موت کی سزا دی گئی تھی۔ میں نے بچپن میں حاجی اعتبار ٹھیکہ دار جو مینگورہ رنگ محلہ کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہو گزری ہے، سے سنا تھا کہ میں بھی اُسے گرفتار کرنے والے گروپ میں شامل تھا۔ شیر اترپ میں ایک لڑکی اُس وقت اپنے مویشی چرا رہی تھی۔ اُس نے دیکھا کہ چند آدمیوں نے ایک بوڑھے کو کنویں میں ڈال دیا اور اُس کے اوپر پتھر اور مٹی ڈالی جا رہی ہے۔ شیر اترپ میں بادشاہ صاحب کے لیے قدرتی برف کو سردیوں میں محفوظ کرنے کی خاطر جگہ جگہ چند کنویں کودھے گئے تھے۔ اس میں برف ڈالی جاتی تھی اور پھر گرمیوں میں اُسے نکال کر کام میں لایا جاتا تھا۔ سنڈیا بابا جیؒ کو ایسے ہی ایک کنویں میں ڈالا گیا تھا۔ جب ریاستِ سوات کا پاکستان میں ادغام کیا گیا، اُس وقت وہ لڑکی عمر کے لحاظ سے بوڑھی ہوچکی تھی۔ اُس کے نشان دہی پر شیراترپ کے لوگوں نے ’’لیونو پیر‘‘ کے دست رات ’’اینگر بابا‘‘ کے ساتھ مل کر اُس جگہ قبر بنائی۔ بعد ازاں لوگوں نے اُسے ایک مزار کی شکل دی اور وہاں ایک مسجد بھی بنائی۔ اب لوگ اُس مزار پر دعائیں مانگنے کے لیے جایا کرتے ہیں۔اس طرح اسلام پور کے جمعدار کی بیٹی جو اُس وقت چھوٹی بچی تھی، جس نے سنڈیا بابا جی کو دودھ پلایا تھا، وہ بھی اس وقت عمر کے لحاظ سے بوڑھی ہوچکی تھی۔ وہ افسوس کے ساتھ کہتی کہ سنڈیا بابا ؒ کی شہادت کے بعد ہمارے خاندان کے کئی لوگوں کو کوڑھ کا عارضہ لاحق ہوا اور چل بسے۔ چکیسر کے جو لوگ سنڈیا بابا جی ؒ کے خلاف سازش اور افواہوں میں ملوث تھے، وہ بھی بے موت مرگئے تھے۔سنڈیا باباجی کی بیوی ’’شلمانو ابئی‘‘ بھی چند ماہ بعد شدت غم سے فوت ہوگئی تھی۔

تبصرہ کریں

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں