اہل کوہستان یہ روایت برقرار رکھیں گے

Advertisement
دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یوں تو کئی دفعہ کا ذکر ہے کہ کالام جاتے ہوئے گاڑی راستے میں خراب ہوئی ہے، لیکن اس دفعہ گاڑی ایک ایسی سنسان جگہ خراب ہوئی کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ گئے۔ زیادہ پریشانی اس بات کی تھی کہ گاڑی میں خواتین اور بچے بھی تھے، مگر ہمیں چہار سو پھیلی رات کی تاریکی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ سب مسافر بشمول ڈرائیور اور کنڈیکر کو کوئی ترکیب نہیں سوجھ رہی تھی۔ ڈیڑھ گھنٹہ بعد اچانک قسمت کی دیوی مہربان ہوئی اور ایک ڈائنا گاڑی آکر ہمارے قریب رکی۔ ڈرائیور کی نظر خواتین اور بچوں پر پڑی، تو اس کے ماتھے پر پریشانی کے آثار دکھائی دیئے۔ ہم نے ان کی پریشانی کو بھانپ لیا اور زیرِ لب مسکراتے ہوئے کہا کہ کوئی بات نہیں۔ خواتین اور بچے گاڑی کے ایک کونے میں بیٹھیں گے اور مرد حضرات دوسرے کونے میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرلیں گے۔ یوں ہم ڈائنا میں سوار ہونے والے ہی تھے کہ اسی اثنا میں قسمت کی دیوی کچھ اور مہربان ہوئی۔ فراٹے بھرتی ایک کار ہمارے قریب آکر رک گئی۔ ڈرائیور کو جب ہماری تعداد کا اندازہ ہوا، تو وہ پریشانی میں مبتلا ہوگیا۔اب آگے کا حل ہم نے خود نکال دیا۔ خواتین کو کار میں بٹھایا اور خود ڈائنا گاڑی میں سوار ہوگئے۔ گاڑی نے رفتار پکڑ لی۔ کھلی کیبن گاڑی میں بیٹھ کر جب کالاکوٹ سے آگے گھنے جنگلات، شور مچاتا دریائے سوات، رات کی خاموشی میں شور مچاتی آبشار اور پہاڑی کے دامن میں چھوٹے چھوٹے روشن گاؤں سے گزرے، تو ہمیں پہلی بار اندازہ ہوا کہ سوات کا حسن اندھیرے میں چاند کی مانند اور بھی نکھرجاتا ہے۔ ساتھ بیٹھے ہوئے مسافروں کی پریشانی شاید بجا تھی، لیکن بقول شاعر

برق و طوفاں کا ڈر نہیں ہوتا

ہم فقیروں کا گھر نہیں ہوتا

ہم تو رات کی سحر انگیزی میں غرق تھے۔ جیسے ہی مدین کے احاطے میں داخل ہوئے، تو ’’کالام دے‘‘ کی سماعت خراش آواز نے ہمیں چونکا دیا۔ قریب سے گزرنے والی ایک کھلی کیبن گاڑی سے جوشیلے نوجوان ہمیں بہ آوازِ بلند اپنی طرف متوجہ کرکے یہ یقین دلارہے تھے کہ ہم بھی سوات کے ماتھے کا جھومر ’’وادئی کالام‘‘ سے ہوکر آئے ہیں۔ لیکن ان جوشیلوں کو کیا پتا تھا کہ ’’عالم پہ سہ دی او محمد عالم پہ سہ دی۔‘‘ ہماری گاڑی میں سوار مسافر اس پریشانی میں تھے کہ کب گھر پہنچیں گے؟ اور ان من چلوں کو کالام کی پڑی تھی۔ اگر میں ان مسافروں کے درمیان نہ ہوتا تو کہتا کہ ’’د زلفو سورے دی کالام دے۔‘‘

القصہ، ہم مدین بازار پہنچ گئے۔ باقی تمام سواریوں کا سفر مدین تک ہی تھا۔ سب لوگ باگ گاڑی سے اترے۔ ڈرائیور کو کرایہ دینے کے لئے جیبیں ٹٹولنے لگے۔ تب جاکر احساس ہوا کہ ڈرائیور نے کرایہ لینے سے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ روز کماتے ہیں، ایک آدھ موقع ہی تو خدمت کا آتا ہے، وہ بھی آپ کرایہ دے کر ہاتھ سے جانے دیتے ہیں۔ اس طرح کار والے نے بھی ہماری مجبوری کو اپنے اوپر احسان ہی سمجھا اور ایک پائی بھی نہ لی۔

راقم کو بہرصورت بحرین تک پہنچنا تھا، مگر شومئی قسمت کہ ٹیکسی سٹینڈ سنسان پڑا تھا۔ سوچا کہیں سے شاید کوئی گاڑی آٹپکے۔ اس لئے سٹینڈ کے ساتھ ہی سڑک پر آنکھیں چار کئے انتظار کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں ایک انکل مہربان نمودار ہوئے۔ علیک سلیک کے بعد پشتو زبان میں کہا کہ ’’بیٹا، گاڑی آنے کی کوئی امید نہیں۔ اس لئے آپ میرے ساتھ ہی گھر جائیں۔‘‘ ہم نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جانے کی پریشانی بیان کردی، تو وہ ہمارے پشتو لہجے سے سمجھ گئے اور توروالی میں گویا ہوئے: ’’سڑک کے قریب ہی میرا گھر ہے۔‘‘ گاڑی کا انتظار کریں گے، اگر ملی تو بہتر ،نہ ملی تو رات گزار کے جائیے گا۔ میں ان کے ساتھ ہولیا۔ جب چند قدم آگے بڑھائے، تو تین چار رکشے کھڑے تھے۔ ایک رکشے کے اندر جھانکا، تو اندر سے نوجوان نے توروالی زبان میں پوچھا: ’’کھیت کے بھیدو؟‘‘ یعنی کہاں جانا ہے؟ جب اسے اپنی رام کہانی سنائی، تو اس نے فوراً بیٹھنے کا کہا۔ انکل کو رخصت کر دیا، لیکن جاتے جاتے انکل نے موبائل نمبر بھی نوٹ کیا، تاکہ اگر کوئی پریشانی کا سامنا ہو تو وہ بھی مدد کرسکے۔ جب میں سیٹ پر براجمان ہوا، تو نوجوان کہنے لگا کہ دیکھئے آپ کو بحرین پہنچنے کی پریشانی ہے، مگر میں آپ کو کیوں کر جھوٹی تسلیاں دے کر مزید الجھن میں ڈالوں؟ میں نے صرف ساتال تک جانا ہے، مگر آپ کو گاڑی میں بٹھانا اب میری ذمہ داری بن چکی ہے۔ اگر کچھ ہاتھ نہ آیا، تو اپنا رکشہ تو کہیں گیا ہی نہیں۔

یہ کہتے ہوئے وہ رکشہ سے اتر گیا اور ایک کار لے کر آگیا۔ مجھے اندر بیٹھنے کا کہا اورخود بھی رکشہ دوسرے ساتھی کے حوالہ کرکے ہمارے ساتھ بیٹھ گیا۔ یہ جان کر میں انگشت بدنداں رہ گیا کہ کار والا خود مدین کا ہے اور مجھے ڈراپ کرکے اس نے واپس گھر جانا ہے۔اس لئے نوجوان بھی اپنا رکشہ چھوڑ کر ان کے ساتھ ہولیا۔

جب بحرین پہنچا تو تھکاوٹ سے چور تھا۔ گرم گرم چائے کی چسکیاں لے رہا تھا کہ انکل کی کال آئی۔ پوچھا:’’بیٹا پہنچ گئے ہو، آپ؟‘‘

راقم نے ایک عرصہ شہروں میں گزارا ہے۔ شہر میں لفٹ مانگنے کی نوبت کم ہی آتی ہے۔ مگر اتنے خلوص نیت کے ساتھ کسی کو لفٹ دینا، اپنائیت کا احساس دلانا، دوسروں کی فکر میں رہنا اور مہمان نوازی کے گر سکھانا کوئی ’’کوہستانیوں‘‘ سے سیکھے، جس پر ایک کوہستانی ہونے کے ناتے مجھے فخر اور ناز ہے ۔

امید ہے یہ روایت ہم سب اہلِ کوہستان مل کر برقرار رکھیں گے۔

(نوٹ:۔ میرے نزدیک شہر اور گاؤں کے لوگوں میں انسانی ہمدردی کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ انسانی ہمدردی کا دارومدار انسانی سوچ پر ہی ہے، جس کا اختیار قدرت نے انسان کو بخشا ہے، راقم)

نوٹ : زماسوات ڈاٹ کام کا مصنف کے متن سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرہ کریں

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں