یہ دیس ہے دادی بلورستانی کا (آٹھواں حصہ)

Advertisement
دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

گلگت سے ایک سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وادیٔ ہنزہ کا ایک قصہ پارینہ بنا گاؤں اس سڑک پر آباد ہوا کرتا تھا۔ سات سال ہوتے ہیں، چار جنوریدوہزار دس کی بات ہے۔ پہاڑ اور زمین سرکنے کی وجہ سے چلتے پھرتے دریا کے پانی کا بہاؤ رُک گیا اور ایک بے قاعدہ جھیل کی شکل اختیار کر گیا، جو پھیلتا گیا اور آبادیوں، گھروں اور مارکیٹوں کو ڈبوتا گیا۔ بر وقت کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے نقصان ہوتا رہا۔ بیس بندے اس حادثے میں جان سے گئے۔ چار گاؤں کے کوئی تین سو مکانات اور کئی مارکٹیں اس میں ڈوب گئیں۔ لوگ حکومت کی برائے نام مدد کی بجائے کسی معجزے کا انتظار کرتے رہے۔ دُعا کرتے رہے اور مساجد میں گھر خالی کرانے کے اعلانات کرتے رہے۔ اب یہاں پر سب خیر ہے۔ آپ لوگوں کو کچھ یاد آیا! جی ہاں،یہ وہ عطا آباد گاؤں اور وہ بد نامِ زمانہ عطا آباد جھیل ہے، جس کا ’’ظہور‘‘ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں عمل میں آیا اور جس پر ہماری میڈیا نے قیامت بپا کی تھی: ’’اب ٹوٹا کہ اب ٹوٹا۔‘‘ ہماری حکومت بھی بے بسی کے عالم میں اس کے ’’ٹوٹ بٹوٹ‘‘ کے عمل کے انتظار میں بیٹھی تھی۔ اس جھیل کو چین نے ایسی لگام ڈالی، ایسی لگام کہ اب نیلا آسمان اِس جھیل کے جغرافیہ میں ڈھل گیا ہے۔ پانی کے اندر آسمان دیکھ کر
دل میں اک لہر سی اُٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
والی کیفیت چھا گئی ہے۔ گویا آسمان نیچے اور ہم اوپر آ گئے ہیں۔ کہیں ہم رحلت تو نہیں کرگئے ہیں؟ ہم جلدی سے اپنی انگلی دانتوں میں دباتے ہیں۔ درد سا محسوس کرتے ہیں، تو خود پر زندہ ہونے کا گماں غالب اور فوت ہونے کا شک مغلوب ہو جاتا ہے۔ اس جھیل کی پشت میں شاہراہِ قراقرم پر آمد ورفت رواں دواں رکھنے کے لئے چین کی مدد سے نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے سات کلومیٹر طویل پانچ سُرنگیں بنائی ہیں۔ اب یہاں کشتی رانی ہو رہی ہے۔ سیر گاہیں بن رہی ہیں۔ سیلفیوں اور تصاویر کا بازار گرم ہے اور سیاحت کی مد میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ جھیل کے ابتدائی سِرے پر پانی میں آدھے ڈوبے سفیدے کے کئی اُجڑے درخت اپنی بیمار زدہ جڑوں کی، ڈوبے ہوئے گھروں کی اور عطا آباد کے در بہ در ہونے والے باسیوں کی کہانی سُنانے کے لئے بیتاب ہیں، لیکن کہانی سننے کے لئے کسی کے پاس وقت کہاں ہے؟ راوی باقی سب چین ہی چین لکھتا ہے۔
جھیل کے عقب میں یکے بعد دیگرے پانچ سرنگوں میں گھس کر کسی وقفے کے بغیر سوست چیک پوسٹ پہنچتے ہیں۔ سوست یہاں سے کوئی ایک گھنٹے یا چالیس کلو میٹرکے فاصلے پر پاکستان کا آخری شہر ہے جو چائینہ کی مختلف اشیا کی تجارتی منڈی ہے۔ چین اور پاکستان کے بارڈر پر واقع درۂ خنجراب جانے کے لئے یہاں پر گاڑیوں اور بندوں کا معاملہ رجسٹروں میں درج ہوتا ہے۔ ہم بھی یہ “فارمیلٹی” پوری کرکے بھاگم بھاگ خنجراب پاس دوڑتے ہیں۔ اس درہ کے حسن و خوبصورتی سے لوگ جتنا لطف اُٹھاتے ہیں، اُتنا لطف اس سڑک پر ڈرائیونگ سے بھی اُٹھاتے ہیں۔ سطح سمندر سے درۂ خنجراب سولہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ خنجراب روڈ پر دوپہر کے تین بجے بہت سحر زدہ ماحول ہے۔ لگتا ہے سورج کی بجائے چاند معطر ماحول کو دودھیا روشنی سے معمور کر رہا ہو۔ اِس دودھیا سی روشنی میں نہلاتی ہوئی پہاڑیاں مختلف رنگوں کا میلہ سجائے حاضرین کو اپنے حسن و جمال سے ستا رہی ہیں۔ روح ہے کہ وجود ہے، دل ہے کہ دماغ ہے، گردہ ہے کہ کلیجی ہے، جو بھی ہے رقص کے لئے تھرکتا ہے۔ دربارِ خداوندی میں اس کی کائنات کی تعریف کے لئے اکھڑی ہوئی گردنیں خم ہوجاتی ہیں۔ کاش لفظوں میں جان ہو۔ اِس روح پرور ماحول کو الفاظ میں سمو نے کا سانچہ نہیں۔
ایسے میں مجید امجدؔ کے ایک خوبصورت نظم کا آخری بند پڑھنے کا لطف حاصل کرتے آگے چلتے ہیں!
چاہتا ہوں کہ اپنی ہستی کو
سرمدی کیف میں ڈبو جاؤں
چاہتا ہوں کہ ان فضاؤں کی
وسعتِ بیکراں میں کھو جاؤں
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں میں
جذب ہو جاؤں، جذب ہو جاؤں
آہ، یہ خوش گوار نظارے
خلد کے شاہکار نظارے
درۂ خنجراب، پاکستان اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان سرحد ی علاقہ ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی کہنے اور لکھنے کو تو بے شک آسان ہے، لیکن پہنچنے میں بہت ہی مشکل۔ پندرہ ہزار تین سو ستانوے فٹ۔ اس کے میٹر بنائیں، اپنے آس پاس کی کسی پہاڑی یا ٹیلے کے ساتھ اس کا تقابلی جائزہ لیں، تو لگ پتا جائے گا، جیسے کوئی دُنیا کی چھت پر چڑھ گیا ہو۔ اتنی بلندی کا خیالی اندازہ کرکے ہم نے فوری طور پر دو فیصلے کئے۔ ایک، گاڑی سے نیچے قدم نہ رکھنے کا فیصلہ۔ دوم، گاڑی پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ’’پائی کرافٹ‘‘ کی طرح معلق رہنے کی کوئی تدبیر سوچنے کا فیصلہ۔ مبادا کہیں قلابازی کھا کر یا وزن کی وجہ سے نیچے دنیا والوں پر گر نہ جائیں۔ لیکن یہاں پہنچنے پر طالعمند کی مستی، مسکراہٹ اور چہرے کی تازگی دیکھ کر ہم نے فوری طور پر گاڑی سے زمین کی طرف یکایک ایک چھلانگ لگائی۔ کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم بوریت کا کتنا بڑا منبع ہیں۔ اپنے طالع مند خان بھی ہمارے اس غیر سیاسی ہجوم میں سرگرم سیاسی کارکن کے طور پر زیادہ پہچانے جاتے ہیں۔ سیاسی و سماجی تجزیہ کار ہیں، انگریزی اخبارات میں لکھتے ہیں، کنسلٹنٹ بھی ہیں اور سیاسی پنڈتوں کے بیچ میں اپنا ایک قد کاٹ بھی رکھتے ہیں۔ ستمبر کا مہینہ، ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے اور پہننا ہمارا جرسی اور چادر کا۔ خنجراب پر سیاحوں کا حملہ۔ چین کے مقابلے میں پاکستانی سیاحوں کی تعداد بہت زیادہ۔ پاکستانیوں میں زیادہ سیاح ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے۔ سوست چیک پوسٹ پر بتایا گیا تھا کہ آج یعنی چار ستمبر دو ہزار سترہ کو وادئی سوات سے کوئی ترپن گاڑیوں کی انٹری ہوئی ہے۔ تاحدِ نگاہ کوئی پانچ چھے فٹ اوپر نیچے، ٹیڑھا میڑھا باربڈ وائر یہ باور کروانے لگایا گیا ہے کہ آگے ایک ملک کا اختیار ختم اور دوسرے کا شروع ہو جاتا ہے۔ اس لامحدود دنیا کو ہم نے جگہ جگہ سرحدوں کے ناموں پر جکڑ کر محدود کررکھاہے۔ انسان کو قید کرنے کا سنا تھا، زمین و فضا کو نہیں۔ وقت بدل گیا ہے، اب لوگ اپنی اپنی دُنیاؤں کو بھی اپنی قید میں رکھنا پسند کرتے ہیں۔ بڑا خدا بنا بیٹھا ہے خداکے اِس دنیا پر، اُس کا یہ چھوٹا سا فانی بندہ۔ عقل و فکر کا کیا محدود معیار اورا نسانی شعور کے کیا پست پیمانے ہیں۔
خنجراب میں کوئی چیز مختلف نہیں۔ سِوائے چین کے پانچ ستاروں والے سُرخ جھنڈے کے، جو ایک گیٹ پر لہرا رہا ہے۔ سیکورٹی والوں کا ریل پیل ہے نہ بندوقوں کا۔ ڈر اور خوف کی بجائے پیار و محبت کا ماحول ہے۔ گیٹ سے کچھ فاصلے پرلگا نیلا رِبن (پٹی) دونوں ملکوں کے باسیوں کو خبردار کرتا ہے کہ’’آگے جانا منع ہے۔‘‘ پھر بھی پاکستانی اس پٹی سے آگے جانے کے لئے بے تاب ہیں۔ اتنی اجازت ضرور ہے کہ دونوں اطراف کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملائیں۔ تصاویر اور سیلفیاں بنائیں۔ یہ لو ایک چینی خاتون نے دوسالہ بچی کونیلے رِبن کے اوپر سے اُٹھا کر پاکستانی فضا میں لہرایا۔ پاکستانیوں نے بچی کو ہوا ہوا میں’’گود ‘‘ دی۔ اُسے پاکستان میں خوش آمدید کہا، لاڈ پیار کیا اور تصاویر یں اُتار کر بڑے احترام کے ساتھ واپس ماں کے حوالے کیا۔ یہاں پر دونوں ممالک کا بارڈر بہتے ہوئے پانی کا ڈائریکشن ہے۔ ٹاپ سے جس طرف بارش کا پانی بہتا ہے، وہی اُس ملک کا علاقہ تصور ہوتا ہے۔ اس وقت میرے ذہن میں پاکستان کی دوسرے بارڈرز کی صورتحال گھوم رہی ہے۔ خدا کرے کہ وہاں بھی ہماری زندگی ہی میں بدگمانیوں کا ’’چائینہ وال‘‘ گر جائے اور لوگ اسی طرح پیار و محبت کے ساتھ ایک دوسرے سے گلے ملیں، ہاتھ ملائیں اور نیک خواہشات کا تبادلہ کریں۔ لیکن یہ ریاستی سطحوں پر نہیں عوامی سطحوں پر ممکن ہے۔ ہمارے سیاسی لیڈروں میں اتنا دم خم نہیں کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ رابطے بڑھانے اور نزدیکیاں پیدا کرنے کے لئے کوئی ٹھیک ٹھاک لائحہ عمل بنائیں۔ کوئی کرنے کے لئے عملی قدم اُٹھائے بھی، توو ہ قدم شکستگی سے دو چار کروا دیئے جاتے ہیں۔ عوامی رابطے بڑھانے کے لئے سول سوسائٹی کو سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔ ورنہ اس ریجن میں امن کے قیام کے دعوے ایک سراب کی مانند سمجھے جائیں۔ (جاری ہے)

تبصرہ کریں

دوستوں کے ساتھ شیئر کریں