پانی کے نام پر زہر

وطنِ عزیز کے ذرائع ابلاغ نے مختلف قابل اعتماد اداروں کے حوالے سے یہ خوفناک انکشافات کئے ہیں کہ اب وطنِ عزیز کے زیر زمین پانی میں ’’سنکیا‘‘ نام کے مہلک زہر کی زیادہ موجودگی ثابت ہوگئی ہے۔ یہ انکشاف عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کی بنیاد پر ہے۔ اس سے قبل کراچی میں پینے کے پانی میں انسانی بڑے پیشاب کے ملاوٹ کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ کچھ عرصہ قبل عالمی ادارۂ صحت کی تحقیق میں پشاور کی نالیوں کے پانی میں پولیو کے جراثیم پاگئے تھے اور ہم لوگوں کو دنیا بھر میں یہ اعزاز حاصل ہوا تھا کہ اب پولیو کا مرض صرف ہمارے یہاں ہے، باقی ماندہ ممالک اس سے چھٹکارا حاصل کرچکے ہیں۔

ہمارے ملک میں چھوٹے بڑے سب جانتے ہیں کہ یرقان کے مرض کی تمام اقسام ہمارے یہاں موجود ہیں۔ پیٹ کی مختلف بیماریاں ہمارے یہاں عام ہیں۔ کمزوری، چڑ چڑا پن (جلدی غصہ ہونا)، شوگر، بلڈ پریشر اور جوڑوں کے درد ہمارے یہاں شاید دوسرے ممالک سے زیادہ ہیں۔ ان کی دوسری وجوہات تو علمائے حق جانتے ہوں گے۔ البتہ مذکورہ بالا میں پیٹ کی بیماریاں، یرقان، پولیو (جس میں انسانی ہڈیاں ٹیڑھی ہوجاتی ہیں) آلودہ پانی سے پیدا ہوتی ہیں۔ اب سندھ اور پنجاب کے بعض علاقوں کے زیرِ زمین پانی میں سنکیا (سنکھیا) یعنی آرسینک کی دریافت قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس کے بارے میں علمائے ارضیات ہی کچھ کہہ سکتے ہیں، ویسے بادی النظر میں اس کی وجہ زیرِ زمین موجود قدرتی کیمیائی مواد ہوں گے۔ اس مسئلے کا براہِ راست حل شاید ممکن نہ ہو، البتہ ایک اور طریقے سے اس کے خطرات سے بچا جاسکتا ہے۔ پنجاب اور سندھ کے پانی میں سنکھیا جیسے زہر (جس کا نہ ذائقہ ہوتا ہے اور نہ بو) سے ملک کے کئی اور علاقے متاثر ہوسکتے ہیں۔ کیوں کہ ہمارے یہاں بوتلوں میں پانی کا فروخت زیادہ ہوگیا ہے اور زہر کو عام طریقوں، بلکہ فلٹریشن کے ذریعے بھی پانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ یوں یہ زہریلا پانی بوتلوں کے ذریعے دور دراز کے علاقوں تک پہنچ رہا ہے۔ متعلقہ علما بتاتے ہیں کہ کینسر کے مرض کی بڑی وجہ انسانی بدن میں کسی نہ کسی شکل میں زہر کا پہنچنا ہوتا ہے۔ خواہ وہ زہریلی خوراک ہو، زہریلا پانی ہو، غیر معیاری دوا ہو یا ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دوائی کا استعمال ہو، گندی ہوا ہو یا ملاوٹی خوراک ہو، فصلوں پر کیڑے مار سپرے ہو یا کیمائی کھاد ہو۔ ہم دیکھتے ہیں وطن عزیز میں کینسر، جوڑوں کے درد، بلڈ پریشر وغیرہ بیماریاں بہت زیادہ ہوگئی ہیں۔

ڈاکٹرز بتاتے ہیں کہ کینسر کے مرض کی بڑی وجہ انسانی بدن میں کسی نہ کسی شکل میں زہر کا پہنچنا ہوتا ہے۔

پاکستانی مسلمانوں میں الراشی و المرتشی کی تعداد بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ اس لیے یہ لوگ قوانین شکنی میں بھی بہت بڑھ گئے ہیں بلکہ سوات جیسے عمدہ علاقے اور اس کے شریف لوگوں میں ایسے افراد پیدا ہوگئے ہیں جو قوانین کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اُن کو قرآنِ مجید اور احادیث نبویﷺ کی تعلیم شاید نہیں دی گئی ہوتی ہے کہ قوانین کا احترام اور ان کے مطابق زندگی گزارنا فرض ہے۔

اس وقت مختلف حکومتیں اور ادارے کوڑا کرکٹ اٹھانے پر بڑی رقوم خرچ کر رہے ہیں، لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ حقیقت بھی ہے کہ اس عظیم مقدار کی گندگی کو کہاں پھینکا جائے؟ اسمبلیوں میں بڑے بڑے علما جن کی بات سنی بھی جاتی ہے اور مانی بھی جاتی ہے، موجود ہیں۔ اُمید ہے وہ اس بڑے مسئلے پر ضرور کام کر رہے ہوں گے۔ لیکن جب تک درس و تدریس کے مراکز اور مساجد کے ذریعے عوام کی تربیت نہیں کی جاتی اور پھر اُن کی سختی کے ساتھ بے رحم نگرانی نہیں کی جاتی، حالات خراب سے خراب تر ہوں گے۔ مینگورہ سمیت تقریباً ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں یہ خطرناک طریقہ بہت عام ہوگیا ہے کہ لوگ اپنے فلشوں کی غلاظت کو براہِ راست نالیوں میں ڈالتے ہیں۔ اس گناہ میں میونسپل حکام معاون اور شریک ہیں۔ کئی ایک عوامی پیڈ لیٹرینز کا نکاس ندی نالوں میں کروانے کی اجازت یا اُس پر چشم پوشیاں ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے پلازوں کی تعمیر کی اجازت اس حقیقت کے باوجود دی جاتی ہے کہ وہ پلازے فلشوں کے مواد کے لیے مناسب طریقہ نہیں رکھتے۔ یہی پانی آگے جاکر دریا میں شامل ہوجاتا ہے اور لیک شدہ پائپوں کے ذریعے انسان کے جسم میں چلا جاتا ہے۔

چوں کہ ہمارے میونسپل اداروں بشمول پورے محکمۂ بلدیات میں یہ قوت نہیں کہ وہ کچھ تدارک کریں اور نہ ہمارے مالدار لوگ ٹیکس دینے کے روادار ہیں کہ محکموں کے پاس اتنا فنڈ ہوکہ وہ دریاؤں کو آلودگیوں سے بچاسکیں۔ اس لیے یہاں نا امیدی ہی کی بات ہے۔ ورنہ زیرِ زمین زہریلے پانی کا اور دوسرہ آلودگیوں کا واحد علاج یہی ہے کہ ہم رب کریم کی طرف سے عطا کردہ بارش کے میٹھے اور صاف پانی کو غیر آلودہ شکل میں عوام کو پینے کے لیے پہنچائیں۔ یہ ناممکن نہیں لیکن اس کے لیے خود غرضیوں کو چھوڑنا پڑے گا۔ اس طرح اگر متفق ہوکر وطنِ عزیز میں نہ ختم ہونے والے کوڑے کرکٹ (پلاسٹک کی مصنوعات) کی مقدار کم سے کم کروائیں اور جو پیداہوتا ہے، اُس کی ری سایکلنگ (دوبارہ کار آمد بنانا) کے کارخانے ہر ضلع میں بنوائیں (اس وقت صرف پنجاب کے لوگوں نے اس کام کے چند کارخانے لگائے ہیں، جو پورے ملک کے پلاسٹک کچرے کی ری سایکلنگ کے لیے بہت کم ہیں) تو مسائل کم ہوں گے۔

ہماری تعلیم صدیوں پرانی تحاریر پر ہوتی ہیں اور یہ مسائل اُن زمانوں میں نہیں تھیں، ورنہ اُن زمانوں کے علما ان کا حل ضرور بتاتے۔ چوں کہ ہم قدیم تحاریر کی حرف بہ حرف تقلید پر ایمان رکھتے ہیں، قرآن و سنت سے خود رہنمائی اخذ نہیں کرتے، اس لیے موجودہ معیارِ تعلیم میں ان مسائل کا حل نہ ہونے کے برابر ہے۔ علمائے حق اور ملک کے دانشمند طبقے اور حکمران طبقے کا فرض ہے کہ معیارِ تعلیم (مدرسہ و کالج دونوں) اور ملکی پالیسیوں کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق بنادیں اور رکاؤٹوں کو سختی سے دور کروا دیں۔

Facebook Comments