سوات،فارسٹ ایکٹ کے خلاف کاشتکاروں کا احتجاجی مظاہرہ

سوات (زما سوات ڈاٹ کام:20فروری2018)صوبائی حکومت اور فارسٹ ایکٹ کے ظالمانہ اقدام کے خلاف آل سوات مقامی کاشتکارا ن کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ ،جلوس، دھرنا، گیا رہ مارچ کے بعد پشاور تک لانگ کا اعلان ، مطالبات کے منظوری تک احتجاج جاری رہیگا ، ان خیالات کا اظہار آل سوات مقامی کاشتکاران کمیٹی کے صدر منصور علی ، جنرل سیکرٹری ماسٹر خان زمان ، فضل ربی ، گل رحمن ، رحیم شاہ شیر رحمان ، عزت خان ، سیف الملک، محمد غفور ، گل رحمن اور دیگر نے سوات پریس کلب کے سامنے منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، مقررین نے کہا کہ سوات میں ریوینو رکارڈ انتہائی غلط طریقے سے بنایا گیا ہے بندوبست میں اصل مالکان کے بجائے جنگلات فارسٹ محکمے کے نام کردیئے ہیں اور صوبائی حکومت کے غلط اور نارواں اقدامات کے نتیجے میں جنگل میں بھیڑ بکریاں چرانے پر پابندی لگا دی ہے جو سراسر پہاڑوں میں رہنے والے لوگوں کے معاشی قتل ہے ، اس لئے ہمارا معاشی قتل فوراً بند کیا جائے ، اپنے حقوق کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ، موجودہ احتجاج کا دائرہ پشاور تک بڑھائیں گے، اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے ، مقررین نے کہا کہ جنگلات میں صدیوں سے ہم رہائش پذیر ہیں اور یہاں پر ہم نے زمینیں خریدی ہے اور ہم یہاں کے اصلی باسی ہے پھر بھی ہمیں تنگ کررہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا جینا حرام کردیا ہے ، ملک میں ہمارے ساتھ ہونے والے یہ امتیازی سلوک فوراً ختم کیا جائے ، ہم نے وزراء ، وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر ہمارے ساتھ کسی نے ملاقات نہیں کی ، مجبوراً سڑکوں پر نکل آئیں ، ہم اپنے بچوں کے معاشی قتل عام نہیں دیکھ سکتے ، مقررین نے کہا کہ ہم اپنے مویشیوں کو جنگلات میں پال رہے ہیں یہی سے ہمیں سوختی لکڑی کا بھی اجازت دی جائے ، واضح رہے کہ آل سوات مقامی کاشتکاران کمیٹی کا مینگورہ کے نشاط چوک سے سوات پریس کلب تک جلوس نکالا اورصوبائی حکومت اور محکمہ فارسٹ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ۔

Facebook Comments