Ad

سوات،فوجی و سول حکام اور سوات قومی جرگہ میں مذاکرات کامیاب

7

Ad

سوات (زما سوات ڈاٹ کام :23فروری 2018)گزشتہ روز پاک فوج کے ذمہ داران ،کمشنر ملاکنڈ ،ار پی او ملاکنڈ ڈویژن اور سوات قومی جرگہ کے مشران کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں سوات میں سیکورٹی چیک پوسٹوں اور دیگر سیکورٹی سے متعلق اقدامات کے نتیجے میں عوام کو درپیش انے والے مشکلات کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی گئی ،ملاقات کے دوران سوات قومی جرگے کے مشران کو اگاہ کیا گیا کہ لوگوں کی مشکلات کے ازالے کیلئے موثر اقدامات کر دئے گئے ہیں اور ائندہ مذید اقدامات بھی کئے جائیں گے ،سوات قومی جرگہ کے مشران نے کچھ عوامی مسائل سے کمشنر ملاکنڈ کو آگاہ کیا جس کے فوری حل کی یقین دھانی کرائی گئی ،قومی جرگہ مشران نے پاک فوج اور ڈویژنل انتظامیہ کو سوات میں امن کے استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔اس حوالے سے جاری کردہ پریس ریلیز میں سوات قومی جرگہ کے رہنماء خورشید کاکاجی اور احمد شاہ نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات کے عوام کو درپیش مشکلات اور18 فروری 2018 کے مظاہروں کے تناظر میں پیدا ہونے والے صورتحال کی روشنی میں سوات قومی جرگہ کے اکابرین اور ملاکنڈ ڈویژن کے ملٹری اور سول حکام کے مابین تفصیلی گفت و شنید کا انعقاد ہوا جس میں اعلی فوجی حکام کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ،ار پی او ملاکنڈ ڈویژن سمیت سوات قومی جرگہ کے پندرہ مشران نے شرکت کی ،دونوں فریقین پر مشتمل مزاکرات میں فریقین نے انتہائی سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر موثر اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا کہ سڑکوں پر قائم چیک پوسٹوں پر عوام کی آمد و رفت کو انتہائی اسان اور پختون روایات و اقدار کے مطابق رکھا جائیں گا ،ارمی کے ہمراہ چیک پوسٹوں پر پولیس بھی تعینات ہوگی ،جبکہ سرچ اپریشن کے موقع پر بھی ملکی قانون اور علاقے کے سماجی قدروں کا خیال رکھا جائیگا سوات کے عوام کو اپنی ملکیتی اراضی میں درختوں کی کٹائی میں کسی قسم کی بندش اور ممانیت نہیں ہوگی ، چکدرہ تک کالام بننے والے ایکسپریس وے کو دریائے سوات کے کنارے ہی تعمیر کیا جائیں اور اس سے زرعی اراضی مکانات اور ابادیوں کو متاثر نہیں ہونے دیا جائیں ،اور دریائے سوات کی خوبصورتی کو متاثر کئے بغیر تعمیرات کیلئے دریائے کے ریت غیر کمرشل استعمال پر سے پابندی اٹھائی جائے ،مذاکرات میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے ذمہ داری لیتے ہوئے جرگہ مشران کو یقین دھانی کرائی کہ 18 فروری کے مظاہروں کے منتظمین و مقررین کے خلاف مختلف تھانوں میں قائم مقدمات کی تنسیخ ہوگی ،مذاکرات میں سیکورٹی فورسزسے متعلق طے شدہ باتوں پر فوجی حکام کی طرف سے پریس ریلیز جاری ہوگی جبکہ کامیاب مزاکرات اور فیصلوں کے نتیجے میں سوات قومی جرگہ کے مشران نے فیصلہ کیا کہ 25 فروری 2018 کو نشاط چوک مینگورہ میں ہونے والا احتجاجی جلسہ عام منسوخ کیا گیا لہذا ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے عوام زحمت نہ کریں۔

Ad

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.