سوات کے ٹرانسپورٹروں نے ڈی کلاس لائسنس مسترد کردیا

سوات(زما سوات ڈاٹ کام:08مارچ2018) سوات میں غیرقانونی ٹرانسپورٹ اڈوں کے خلاف ٹرانسپورٹرز سراپااحتجاج ، ڈی کلاس لائسنس مستردکردیا گیا،سوات کے ٹرانسپورٹ برادری نے مینگورہ میں غیرقانونی ٹرانسپورٹ اڈہ جات اور ڈی کلاس لائسنس کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے خبردارکیاہے کہ وہ کسی بھی غیرقانونی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے ، فضاگٹ میں ٹرانسپورٹروں کے احتجاجی مظاہرے اور ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آل سوات ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے صدر خائستہ باچہ ، سینئر نائب صدر افضل خان ، نائب صدر اقبال باچہ، عمرعلی ، محمداقبال اور دیگرنے کہاکہ جنرل بس سٹینڈ کی بائی پاس منتقلی سے قبل ایک لابی ابھی سے لابنگ کرتے ہوئے بائی پاس اڈہ کے اردگرد غیرقانونی اڈے قائم کرنے اور ڈی کلاس لائسنس کے ذریعے ٹی ایم اے کے حدود میں اڈے قائم کرنے کیلئے متحرک ہوئے ہیں لیکن ہم قانون کے پاسداری کرینگے اور کسی کوقانون کے ماورائے کام کرنے کی اگراجازت دی گئی تو ہم بھی پھرسرکاری اڈے کے ذریعے کام نہیں کرینگے ، انہوں نے کہا کہ ہر کسی کے ساتھ حکومت اور ذمہ داروں کیطرف سے یکساں سلوک کرناچاہئے ، انہوں نے کہا کہ امتیازی سلوک کی بھرپور مخالفت کریں گے اور پاکستان کے آئین اورقانون کے مطابق پرامن طریقے سے اپنااحتجاج کریں گے ، کسی کو اپنے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ قانون کے مطابق بلدیہ کے حدود 4کلومیٹر کے حد میں کسی کو اڈہ قائیم کرنے کی اجازت نہیں ہے اور ڈی کلاس لائسنس غیرقانونی ہے اس کے اجازت اگردی گئی تو پھر ہم بھی اس اقدام میں حق بجانب ہوں گے کہ ہم سرکاری اڈہ کے بجائے دیگرمقدمات میں انفرادی اڈے قائم کرکے ٹرانسپورٹ کے کام کریں گے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مطالبات کے حق میں اپنابھرپور احتجاج کریں گے۔

Facebook Comments