پشاورہائیکورٹ مینگورہ بنچ،پیرامیڈیکس کے حوالے سے ایک ماہ میں فیصلے پر عمل درآمد کا حکم

Advertisement

سوات (زما سوات ڈاٹ کام:15اپریل2018) پشاورہائیکورٹ مینگورہ بنچ نے پیرامیڈیکس کے ری سٹرکچرنگ / اپ گریڈیشن کے حوالے سے سیکرٹری صحت اور ڈی جی ہیلتھ کو ایک ماہ میں فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دیدیا ، اس حوالے سے عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا صوبہ خیبرپختونخواہ کے مختلف اضلاع اوریونٹوں کے پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن (حق پرست ) نے پشاور ہائیکورٹ مینگورہ بنچ میں ایک رِٹ پٹیشن نمبر405-16دوسال پہلے دائیرکیا تھا جسمیں صوبے کے پیرامیڈیکس کیساتھ دیگرسرکاری محکموں کے ملازمین اورخود محکمہ صحت میں دیگرملازمین کے مقابلے میں ان کیساتھ زیادتی اورناانصافی کو دستاویزی ثبوتوں کیساتھ پیش کیاگیا جس کے مطابق پیرامیڈیکس سروس سٹرکچر 2006 ؁ ء میں صرف 4فیصد پیرامیڈیکس کے اگلے گریڈوں یعنی گریڈ نمبر14،نمبر16نمبر17اورنمبر18میں اپ گریڈکیاگیاہے جبکہ بغیر 96فیصد سٹاف گریڈ نمبر12 میں کام کررہے ہیں اورآج ظلم وناانصافی کی انتہا یہ ہے کہ ایک تادوسال اوربیس سال سروس سنیارٹی والے سٹاف اوراعلیٰ کوالیفائیڈ ڈگری ہولڈرز پیرامیڈیکس ایک ہی گریڈ نمبر12میں کام کررہے ہیں جبکہ ہزاروں پیرامیڈیکس پینتیس سال سروس سنیارٹی کے باوجود گریڈ نمبر12یانمبر14میں ریٹائرہورہے ہیں اس ناانصافی کاادراک کرتے ہوئے خود محکمہ صحت نے 2015ء میں ایک سمری تیارکی جسمیں کافی حد تک یہ مسئلہ حل ہونے والا تھا۔ لیکن بعد میں اسکی حتمی منظوری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے واضح ہدایات کے باوجود نہیں دی گئی ۔ یہ رٹ سیدوشریف ٹیچنگ ہسپتال کے اس وقت کے صدر ریاض علی شاہ ، جنرل سیکرٹری میاں گل علیم، تیمرگرہ ہسپتال کے صدر محمدرحیم ، جنرل سیکرٹری حامد ضیاء ، لوئیردیرکے صدر خورشید احمد، ضلع بونیرکے مصباح اللہ ، سیراج احمد ، ضلع صوابی کے فضل حکیم ، ایچ ایم سی کے حبیب خان پشاورکے شکیل احمد اخونزادہ ، خیبرایجنسی کے صدیق احمد افریدی ، ضلع بٹگرام کے فیض الرحمن، ضلع شانگلہ کے گل بہادر مردان کے فاروق ، ضلع کرک کے صدر منظور قیصر ، ضلع چترال کے سردارولی اورکئی دیگریونٹوں کے صدور نے داخل کیاتھاکیس کے پیروی پٹیشنرز کیجانب سے ممتاز وکیل ، قانون دان اورسابق اے جی جاویدخان نے کی ، دوسال تک کیس کے سماعت ہوئی ، عدالت عالیہ کے باربارنوٹسز اورسیکرٹری ہیلتھ ڈی جی ہیلتھ کے تنخواہوں کے Detachment of Saleriesاحکامات کے باوجود محکمہ صحت کوئی مدلل جواب دینے میں ناکام رہا۔ گیارہ اپریل2018ء کو عدالت عالیہ پشاورہائیکورٹ کے دورکنی بنچ جوجسٹس محمدابراہیم اورجسٹس محمدناصرمحفوظ پر مشتمل تھا تفصیلی دلائل سننے اورتمام ریکارڈ دیکھنے کے بعد مختصر فیصلہ پیرامیڈیکس کے حق میں سنادیاتھا۔ اورآج تفصیلی تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا، اورمحکمہ صحت اس فیصلے پرایک مہینے کے اندراندر اس فیصلے پرعملدرآمد کا حکم دیدیا، اس سمری کے مطابق پیرامیڈیکس کے موجود تعداد میں چالیس فیصد سٹاف کو گریڈ نمبر12مین چھوڑکر بقیہ سٹاف میں سے تیس فیصد سٹاف کوگریڈ نمبر14میں 24فیصد سٹاف کوگریڈ نمبر16 میں اورچھ فیصد سٹاف کوگریڈ سترہ ، اٹھارہ اورنمبر19میں اپ گریڈ کیاجائے۔

تبصرہ کریں
Shares
Share This