بھیک جرم ، خیرات نیکی ہے

تحریر : احسان حقانی

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے. اسلام آباد میں ایک دکاندار دوست کے پاس بیٹھا ہوا تھا. اتنے میں ایک بزرگ بابا جی آئے. گوری رنگت، نیلی آنکھیں اور سفید داڑھی. دراصل وہ ایک بھکاری تھا اور دن بھر خیرات میں ملنے والے سکوں کو کرنسی نوٹوں میں تبدیل کرنے آیا تھا. یہ اس کا معمول تھا. روزانہ سکوں کو نوٹوں میں تبدیل کرنے آتا تھا.

اس کام سے فارغ ہوا تو اپنی پوٹلی سے سوکھی روٹی نکالی اور روٹی کے اوپر پڑے ہوئے دال کے ساتھ کھانے لگا. بابا کی شخصیت اور غربت کو دیکھ کر میں بہت متاثر ہوا. اس کے ساتھ ہمدردی کے طور پر گپ شپ شروع کی.

میں نے پوچھا، بابا جی، آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟

چارسدہ سے. باباجی نے بتایا. پاس بیٹھے دکاندار دوست نے اعتراض کیا، باباجی، کل تک تو آپ کا تعلق مردان سے تھا. آج اچانک چارسدوال کیسے ہوگئے؟

باباجی خوشگوار موڈ میں تھے. کھلکھلا کر ہنس پڑے. کہنے لگے، یار نہ میں چارسدہ کا ہوں نہ مردان کا. مجھے کیا ضرورت ہے آپ کو اپنا صحیح پتہ بتانے کی. کل کو آپ میرے گاؤں آکر پوچھیں کہ وہ بابا جی، جو اسلام آباد میں بھیک مانگتا ہے، تو گاؤں میں میری کیا عزت رہ جائے گی؟

اس بات سے ایک دوستانہ تعلق شروع ہوا. باباجی نے بتایا کہ اس کا اپنا گھر ہے. بچے برسرروزگار ہیں. اللہ کا دیا سب کچھ ہے.

باباجی نے ہماری بڑھتی ہوئی حیرت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک بڑا سا سوکھا نوالہ منہ میں ڈالا. شخصیت ماشاءاللہ بہت روحانی نظر آرہی تھی.

تو پھر دن بھر میں کتنے کچھ پیسے اکٹھے ہو جاتے ہیں؟ میں نے پوچھا.

دن خراب ہو تو پندرہ سو سے دو ہزار تک روپے اکٹھے ہو جاتے ہیں. جمعرات جمعہ کو تین چار اور کبھی کبھار پانچ ہزار روپے سے بھی زیادہ رقم جمع ہو جاتی ہے.

اس طرح تو آپ ایک مہینے میں لاکھ روپے سے زیادہ کما لیتے ہیں؟ میں نے بے یقینی سے پوچھا.

اللہ کا کرم ہے. آپ ٹھیک سمجھے. بابا جی نے ارشاد فرمایا.

لیکن اس کے باوجود آپ ٹھنڈی دال کے ساتھ سوکھی روٹی کھا رہے ہیں. میں نے کہا. آپ کی جگہ میں ہوتا تو سامنے والے ریستوران سے چکن کڑاہی اور کابلی پلاؤ کھا رہا ہوتا.

باباجی نے کہا، بچے، جو مزہ روکھی سوکھی کھا کر پیسے بچانے اور سکوں کو نوٹوں میں تبدیل کرنے کا ہے وہ خرچ کرنے میں کہاں؟

مجھے یاد ہے کہ کسی این جی او نے ایک سماجی تجربہ کیا تھا. دو نوعمر بچوں کو لیا. ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجا اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے بھیجا. شام کو بھکاری بچہ آٹھ سو اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا. دراصل ہم بحیثیت قوم انجانے میں بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں. ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں اور مشٹنڈے بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئ.

مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائیں اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں. ہمارے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے. اس کے برعکس اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں تو اپنی جایز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے اپنی مزدوری کرے گا.

گھر میں ایک مرتبان رکھیں. بھیک کے لئے مختص سکے اس میں ڈالتے رہیں. مناسب رقم جمع ہو جائے تو اس کے نوٹ بنا کر ایسے آدمی کو دیں جو بھکاری نہیں. اس ملک میں لاکھوں طالب علم، مریض، مزدور اور خواتین ایک ایک ٹکے کے محتاج ہیں. صحیح مستحق کی مدد کریں تو ایک روپیہ بھی آپ کو پل صراط پار کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے. یاد رکھئے، بھیک دینے سے گداگری ختم نہیں ہو سکتی، بلکہ بڑھتی ہے. خیرات دیں، منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ، اس طرح دنیا بھی بدل سکتی ہے اور آخرت بھی. باقی مرضی آپ کی.

Facebook Comments