Columns

جناب! ذمہ داری سنبھالیے

ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارا میڈیا ہمیشہ صرف حالات حاضرہ کے چٹ پٹے موضوعات کا بھوکا رہتا ہے۔ کبھی ایسے حل طلب مسائل کی طرف نہ میڈیا کا کیمرہ دیکھتا ہے نہ لکھاری کا قلم جنش لیتا ہے کہ جنہیں عالمی سطح پر اجاگر کرنے یا جن کے بارےعوام کو زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرنا لازمی ...

مزید پڑھیں »

ذوالفقار علی بھٹو

بعض اوقات مجھ سے طالب علم (مرحوم) ذوالفقار علی بھٹو کے بارے پوچھ لیتے ہیں۔ ایک دو دفعہ عام افراد نے بھی چند سوالات کئے۔ اس لیے صرف معلوماتِ عامہ کے لیے یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ یہ میرے اپنے خیالات نہیں لیکن بھٹو پر شائع شدہ چند مضامین اور کچھ کتب سے اخذ کردہ چند عبارات ہیں، جن سے ...

مزید پڑھیں »

ایک دلچسپ روداد

مجھے تو پاکستانی عدالتی نظام اور قوانین کا علم تو نہیں لیکن ویسے ہی ایک خیال آیا کہ اس پورے نظام میں قرض کی وصولی کا کوئی طریقہ وضع شدہ نہیں۔ عام آدمی اگر ایک دوسرے کا قرضہ کھا کر ہضم کرتے ہیں، تو کوئی عدالت آپ کی وصولی نہیں کرسکتی۔ پھر بڑے سرمایہ دار تو اربوں روپیہ قومی بینکوں ...

مزید پڑھیں »

پانی کے نام پر زہر

وطنِ عزیز کے ذرائع ابلاغ نے مختلف قابل اعتماد اداروں کے حوالے سے یہ خوفناک انکشافات کئے ہیں کہ اب وطنِ عزیز کے زیر زمین پانی میں ’’سنکیا‘‘ نام کے مہلک زہر کی زیادہ موجودگی ثابت ہوگئی ہے۔ یہ انکشاف عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کی بنیاد پر ہے۔ اس سے قبل کراچی میں پینے کے پانی میں انسانی بڑے ...

مزید پڑھیں »

پاکستان کی حکمت عملی اورغیر ملکی پالیسی

آج کے اس تباہ کن, شیطانی اور تذبذب کے شکار دور میں تقریبا ہر طاقتور ملک اپنی سرحدوں سے باہر اپنی خارجہ پالیسی کو مضبوط کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بھی ازسر نو مرتب کرنے کی فوری ضرورت ہے۔اس وقت پوری دنیا امریکہ کی واضح طور شدت پسند خارجہ پالیسی کی وجہ سے اس ...

مزید پڑھیں »

امریکہ سے ناراضگی کیوں؟

23 اگست 2017ء کے اخبارات اور میڈیا کے برقی ذرائع نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الفاظ کے اُن تھپڑوں کو شائع کیا تھا جو اُس نے بر صغیر کی صورتحال پر پالیسی بیان دیتے ہوئے پاکستانی حکومت کے منھ پر پورے زور سے رسید کئے تھے۔ پھر ہمارے خواص و عوام اپنی اپنی استطاعت کے مطابق امریکہ پر برسنے ...

مزید پڑھیں »

یہ دیس ہے دادی بلورستانی کا (آٹھواں حصہ)

گلگت سے ایک سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وادیٔ ہنزہ کا ایک قصہ پارینہ بنا گاؤں اس سڑک پر آباد ہوا کرتا تھا۔ سات سال ہوتے ہیں، چار جنوریدوہزار دس کی بات ہے۔ پہاڑ اور زمین سرکنے کی وجہ سے چلتے پھرتے دریا کے پانی کا بہاؤ رُک گیا اور ایک بے قاعدہ جھیل کی شکل اختیار کر ...

مزید پڑھیں »

یہ دیس ہے دادی بلورستانی کا (ساتواں حصہ)

دن گیارہ بجے ہمارے ’’صبح سویرے‘‘ کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ بسم اللہ، تیسری صبح ہے۔ ’’فریضۂ ناشتہ‘‘ کی انجام دہی کے بعد قافلہ، وادیٔ ُہنزہ پر حملہ آور ہونے نکل پڑتا ہے۔ درجن بھر لوگ، تین گاڑیوں کے انجن، موبائل فونز کے بھرپور شور شرابے، جتنی مُنھ اتنی باتیں اور سامانِ رقص و سرود کے ساتھ ہنزہ جیسے خاموش ...

مزید پڑھیں »

مفاہمت یا سرنڈر؟

مزاحمت اور مفاہمت کی بحث ہر بحث پر حاوی ہوتی چلی جا رہی ہے۔ میدان میں وہ بھی ہیں جو مفاہمت کی بات کر رہے ہیں اور میدان ہی میں وہ بھی جو مزاحمت کے تیور دکھا رہے ہیں۔ لیکن ماحول پر ایک بے یقینی یا ایک درجے کی بد اعتمادی کا اثر بھی صاف نظر آ رہا ہے۔ جو ...

مزید پڑھیں »

اہل کوہستان یہ روایت برقرار رکھیں گے

یوں تو کئی دفعہ کا ذکر ہے کہ کالام جاتے ہوئے گاڑی راستے میں خراب ہوئی ہے، لیکن اس دفعہ گاڑی ایک ایسی سنسان جگہ خراب ہوئی کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ گئے۔ زیادہ پریشانی اس بات کی تھی کہ گاڑی میں خواتین اور بچے بھی تھے، مگر ہمیں چہار سو پھیلی رات کی تاریکی کے سوا کچھ دکھائی ...

مزید پڑھیں »

Responsive WordPress Theme Freetheme wordpress magazine responsive freetheme wordpress news responsive freeWORDPRESS PLUGIN PREMIUM FREEDownload theme free