فضل مولا زاہدؔ

یہ دیس ہے دادی بلورستانی کا (آٹھواں حصہ)

گلگت سے ایک سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وادیٔ ہنزہ کا ایک قصہ پارینہ بنا گاؤں اس سڑک پر آباد ہوا کرتا تھا۔ سات سال ہوتے ہیں، چار جنوریدوہزار دس کی بات ہے۔ پہاڑ اور زمین سرکنے کی وجہ سے چلتے پھرتے دریا کے پانی کا بہاؤ رُک گیا اور ایک بے قاعدہ جھیل کی شکل اختیار کر ...

مزید پڑھیں »

یہ دیس ہے دادی بلورستانی کا (ساتواں حصہ)

دن گیارہ بجے ہمارے ’’صبح سویرے‘‘ کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ بسم اللہ، تیسری صبح ہے۔ ’’فریضۂ ناشتہ‘‘ کی انجام دہی کے بعد قافلہ، وادیٔ ُہنزہ پر حملہ آور ہونے نکل پڑتا ہے۔ درجن بھر لوگ، تین گاڑیوں کے انجن، موبائل فونز کے بھرپور شور شرابے، جتنی مُنھ اتنی باتیں اور سامانِ رقص و سرود کے ساتھ ہنزہ جیسے خاموش ...

مزید پڑھیں »

یہ دیس ہے دادی بلورستانی کا (چھٹا حصہ)

رات سونے سے پہلے گلگت شہر کا دیدار کیا۔ سویا گلگت، جاگتے گلگت سے زیادہ پُرلطف اور پُروقار لگ رہا ہے۔ دل کرتا ہے کہ رات چل پھر کر گزاری جائے، لیکن ہم اپنی مرضی کے مالک تھوڑی ہیں۔ صبح صبح ہنزہ کے پاکیزہ شہر میں قدم رنجہ فرمایا، آگے عطا آباد، سُست اور چائنا بارڈر تک پیش قدمی کرنا ...

مزید پڑھیں »

یہ دیس ہے دادی بلورستانی کا (چوتھا حصہ)

یہ دیس ہے دادی بلورستانی کا (چوتھا حصہ) | فضل مولا زاہدؔ اس وقت ایک اہم سوال ا پنا دماغ چاٹ رہا ہے۔ شاہراہِ ریشم اور اباسین دونوں ایک ہی وقت ایک ہی جگہ پر اکھٹے نمودار ہوئے ہیں۔ کس کی بات پہلی کی جائے اور کس کی بعد میں؟ یہ سوال بڑا گنجلک ہے۔ ایک کو ہم مقامی لوگ ...

مزید پڑھیں »

یہ دیس ہے دادی بلورستانی کا (تیسرا حصہ)

افتخار خان اس کارواں کے منتظم ہیں، یعنی دس عدد سروں کے درد کا مداوا انہوں نے کرنا ہے۔ کوئی فروٹ کا مطالبہ کرے، وہ فوری بشام کے باغات کا تازہ امرود اس کے سامنے پیش نہ کرے، تو پھر کہنا۔ پیٹ یا سر درد کی شکایت ہو اور دو تین عدد مختلف اقسام کی گولیوں کے پلتے اپنے سامنے ...

مزید پڑھیں »

یہ دیس ہے دادی بلورستانی کا (دوسرا حصہ)

یہ دیس ہے دادی بلورستانی کا (دوسرا حصہ) | فضل مولا ذاھدؔ سات لاکھ ستاون ہزار نفوس، پندرہ سو چھیاسی مربع کلو میٹر رقبے اور دو تحصیلوں الپورئی اور پورن کی مالک وادیِ شانگلہ، جو کبھی سابقہ ریاست سوات کا حصہ تھی، جولائی اُنیس سو پچانوے میں ریاستِ پاکستان کے نقشے پر پسماندہ ترین ضلعوں کی فہرست میں اُبھری۔ ضلع ...

مزید پڑھیں »

یہ دیس ہے دادی بلورستانی کا

یہ دیس ہے دادی بلورستانی کا | فضل مولا زاہدؔ جب زندگی گلزار ہو اور یار دوستوں کے نرغے میں خراماں خراماں گزر رہی ہو۔ صحت کاملہ کے معاملہ میں مرزا اسد اللہ خان غالبؔ والی تندرستی ہو اورموج مستی کے لئے جیب میں تھوڑی بہت ریزگاری ہو، تو نیلی چھتری والے کے ساتھ ہمارا سرو کار اتنا سرسری سا ...

مزید پڑھیں »

Responsive WordPress Theme Freetheme wordpress magazine responsive freetheme wordpress news responsive freeWORDPRESS PLUGIN PREMIUM FREEDownload theme free