زمین و جائیداد کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا، فریقین نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کردیے

سوات: شاہی خاندان اور ارشد علی کے درمیان زمین و جائیداد کی خریداری کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے۔

ارشد علی کیمطابق مطابق 3 جولائی 2025 کو ایک جرگہ منعقد ہوا تھا، جس میں طے پایا تھا کہ شاہی خاندان کی زیب النساء مقررہ رقم ادا کرکے ارشد علی سے زمین و جائیداد خریدیں گی۔ تاہم متعدد بار تاریخ دینے کے باوجود رقم کی ادائیگی نہ ہوسکی۔ اس حوالے سے 15 ستمبر 2025 آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی، لیکن اس دن بھی ادائیگی عمل میں نہ آئی۔ ارشد علی کا کہنا ہے کہ چونکہ زیب النساء نے جرگے کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا، اس لیے وہ اب اس فیصلے کے پابند نہیں ہیں اور آئندہ کوئی بھی بات چیت موجودہ اور نئے نرخوں کے مطابق ہوگی۔

دوسری جانب شاہی خاندان کے میاں گل امیر زیب شہریار نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ “جرگہ سے بچنا تھا تو پہلے کہہ دیتے، جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ ثبوت ہے کہ چیک 13 ستمبر 2025 کو ہی آپ کو مل گئے تھے، اس لیے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ جو کچھ انہوں نے لکھا ہے وہ سب جھوٹ ہے اور اب جھوٹ بولنا ان کا پیشہ بن چکا ہے۔ باقی سوات کی عوام سمجھدار ہے۔”