سوات: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے بالخصوص سوات کے قیمتی عوامی اثاثوں کے شفاف، دیانت دارانہ اور مؤثر انتظام کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع سوات میں واقع سوات ہوٹل (سابقہ سرینا ہوٹل) سے متعلق بعض حلقوں کی جانب سے پھیلایا جانے والا منفی پروپیگنڈا حقائق کے منافی ہے۔
شفیع جان نے سوات ہوٹل کے لیز معاہدے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ہوٹل سوات کی ایک نمایاں اور اہم سیاحتی ملکیت ہے جو تقریباً 44.6 کنال رقبے پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہوٹل کو اپریل 1985 میں ایم/ایس ٹورازم پروموشن سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ (سرینا ہوٹل) کو 30 سالہ لیز پر دیا گیا تھا، جس کا سالانہ کرایہ پانچ لاکھ روپے مقرر تھا اور یہ معاہدہ 30 جون 2015 کو ختم ہو گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ لیز کی مدت مکمل ہونے کے بعد مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایہ مقرر کرنے پر اختلافات پیدا ہوئے، جس کے باعث قانونی کارروائی شروع ہوئی۔ مختلف ادوار میں کرایے کی ازسرنو جانچ کی گئی، جس کے تحت 2014 میں سالانہ کرایہ 88 لاکھ 60 ہزار روپے جبکہ 2022 میں ایک کروڑ 32 لاکھ 70 ہزار روپے مقرر کیا گیا۔ اکتوبر 2021 میں صوبائی کابینہ نے منصفانہ مارکیٹ ریٹ کے تعین سے مشروط ماضی سے عارضی توسیع کی منظوری دی تھی۔
معاون خصوصی نے بتایا کہ بعدازاں ڈائریکٹر جنرل سی ٹی اے کی سربراہی میں قائم کثیر شعبہ جاتی کمیٹی نے تفصیلی جائزے کے بعد سوات ہوٹل کا سالانہ مارکیٹ کرایہ 10 کروڑ 46 لاکھ 90 ہزار روپے مقرر کیا تاکہ موجودہ مارکیٹ حقائق سے ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ تاہم قانونی اور پالیسی تقاضوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ صوبائی پالیسی کے تحت لیز میں مزید توسیع ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد سرینا ہوٹل انتظامیہ نے دسمبر 2025 میں ہوٹل خالی کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور 31 دسمبر 2025 کو سوات ہوٹل کا باقاعدہ قبضہ خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی (KP-CTA) کے حوالے کر دیا گیا۔
شفیع جان کے مطابق صوبائی حکومت کی حکمت عملی کے تحت سوات کے اس قیمتی سیاحتی اثاثے کو شفاف اور مسابقتی اوپن نیلامی کے ذریعے دوبارہ لیز پر دیا جائے گا۔ تیسرے فریق کے تخمینوں کے مطابق اس ہوٹل کی مارکیٹ ویلیو نمایاں طور پر زیادہ ہے، جس سے صوبے بالخصوص سوات کو خاطر خواہ آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت سوات سمیت صوبے بھر میں سیاحت کے فروغ، سیاحوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور سیاحتی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات اٹھا رہی ہے کیونکہ سیاحت صوبائی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔