تحریر:عظمیٰ اقبال
15 اگست کو سوات سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں اور فلیش فلڈز نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ گھروں کی دیواریں زمین بوس ہوئیں، کھڑی فصلیں بہہ گئیں اور متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہو گئے۔
پی ڈی ایم اے (Provincial Disaster Management Authority ) کی رپورٹ کے مطابق ان بارشوں اور فلیش فلڈز کے نتیجے میں 406 افراد جاں بحق اور 245 زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 167 خواتین اور 108 بچے شامل تھے۔ مجموعی طور پر 2810 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں 674 مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔ بونیر، سوات، باجوڑ، شانگلہ، دیر لوئر اور مانسہرہ ان اضلاع میں شامل ہیں جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
انہی حالات میں سوات کی خاتون نیلم چٹان اپنے علاقے کے متاثرین کے لیے سہارا بن کر سامنے آئیں۔ نیلم بتاتی ہیں کہ ان کا خدمت خلق کا سفر نیا نہیں۔ 2010 کے سیلاب کے بعد 2011 میں انہوں نے مختلف اداروں اور این جی اوز کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام شروع کیا۔ سوات کے شورش زدہ حالات میں انہوں نے ایک دہائی تک نوجوانوں کو کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے مہم چلائی، جس پر انہیں گولڈ میڈل بھی ملا۔
انکی مطابق حالیہ سیلاب کے دنوں میں وہ گھر پر تھیں جب انہوں نے سوشل میڈیا پر تباہی کی تصاویر دیکھیں۔ وہ کہتی ہیں:
“میرا دل بہت دکھی ہوا، میں رونے لگی۔ اس وقت مجھے لگا کہ خاموش بیٹھنا گناہ ہے۔ میں نے فوراً متاثرہ خاندانوں کے لیے کام شروع کیا۔”
نیلم کے مطابق ابتدا میں جب حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی تھی، تو انہوں نے اور دیگر سماجی کارکنوں نے سب سے پہلے کھانا اور پانی پہنچایا۔ بعد میں کپڑے تقسیم کیے گئے اور اب وہ خشک راشن، جیسے دال اور چاول، فراہم کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے:
“شروع میں لوگوں کو سب سے زیادہ بھوک اور پیاس کا مسئلہ تھا۔ حکومت نہیں تھی، صرف ہم اور چند سوشل ورکرز ہی تھے۔ اگر ہم نہ نکلتے تو لوگ فاقوں پر مجبور رہ جاتے۔”
انکی مطابق میں یہ سب اکیلی نہیں کرتیں لوگوں کی مدد۔ میں اور میری ٹیم سب مل کر فلاحی کام کرتے ہیں ۔ جن میں میرا بھائی سمیت بارہ رکنی ٹیم ہے جس میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔ مقامی لوگ ہم پر بھروسہ کرتے ہیں اور عطیات دیتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ یہ امداد صحیح معنوں میں مستحقین تک پہنچے گی۔
اور ہماری حوصلہ افزائی سوات کی معروف سماجی کارکن مسرت بی بی بھی کرتے ہیں۔
انکی مطابق کبھی کبھار فلاحی کاموں میں کافی مشکل پیش آتی ہے کیونکہ میں ایک ماں ہوں، اپنی بچی کو پیچھے چھوڑنا میرے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ گھر والے ساتھ دیتے ہیں مگر معاشرے کے کچھ لوگ طعنے بھی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر میرے خلاف باتیں ہوتی ہیں۔ لیکن جب میں متاثرہ خاندانوں کی آنکھوں میں شکر گزاری دیکھتی ہوں تو سب کچھ بھول جاتی ہوں۔”
نیلم کی مطابق فنڈز کی کمی ان کی سب سے بڑی پریشانی ہے۔ وہ بتاتی ہیں:
“زیادہ سے زیادہ دو سے تین لاکھ روپے اکٹھے ہو پاتے ہیں، جن سے بمشکل دو سو گھروں تک کھانے کا سامان پہنچا سکتے ہیں۔ باقی لوگ محروم رہ جاتے ہیں، اور یہ میرے لیے سب سے زیادہ دکھ کی بات ہے۔”
مقامی لوگوں کی مطابق نیلم نے لنڈیکس، مرغزار اور بنگلہ دیش کالونی جیسے علاقوں میں سب سے زیادہ مدد کی لوگوں کی ۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں وہی سب سے پہلے ان کے پاس پہنچیں اور انہیں سہارا دیا۔
نیلم چاہتی ہیں کہ حکومت اور بڑی این جی اوز مقامی سطح پر کام کرنے والی ٹیموں کو وسائل فراہم کریں۔ ان کا کہنا ہے:
“ہم اصل مستحقین کو جانتے ہیں، ہم انہی تک امداد پہنچاتے ہیں۔ اگر حکومت ہمیں ساتھ دے تو ہم بہت بڑے پیمانے پر لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔”
ان کی خواہش ہے کہ مستقبل میں ایک ایسا ادارہ بنایا جائے جو کسی بھی آفت کے وقت فوری طور پر متاثرین تک پہنچ سکے۔ وہ کہتی ہیں کہ خواتین کو آفات میں زیادہ فعال کردار دیا جانا چاہیے کیونکہ ان کی موجودگی متاثرہ خاندانوں کے لیے زیادہ حوصلہ افزا ہوتی ہے۔