مینگورہ شہر گو سرسبز و شاداب بنانے کیلئے سول سائٹی کا شجرکاری مہم

سوات (زما سوات ڈاٹ کام ، 19 آگست 2018ء)سوات کے سول سوسائٹی کے نوجاوانوں نے مینگورہ شہر کو سرسبز بنانے کیلئے عملی طور پر شجرکاری مہم کا آغاذ کردیا،نوجوانوں کا کہنا تھا کہ یہ مہم خالصتاً عوامی مہم ہے اور اس کسی قسم کی حکومتی اشتراک نہیں ہے اور نہ ہی حکومتی مشینری استعمال میں لائی گئی ہے بلکہ سول سوسائٹی کے نوجوانوں نے مل کر کچھ رقم اکٹھا کی اور دوسرے روز مہم کا آغاذ کردیا مہم کے دوران مینگورہ خوڑ کے کناروں پر پہلے مرحلے میں دو سو سے زائد پودے لگائے گئے، نوجوانوں کا کہنا تھا کہ مینگورہ شہر جو کبھی بیس سال پہلے سرسبز و شاداب ہوا کرتا تھا اور اس شہر مے بیچ میں بہتی ندی کا پانی بالکل صاف و شفاف ہوا کرتا تھا جبکہ لوگ ندی کنارے بیٹھا کرتے تھے مگردرختوں کی بے دریغ کٹائی اور عوامی بے حسی کی وجہ اس یہ ندی ایک گندے نالے میں تبدیل ہوگئی،تاہم لوگوں میں یہ شعور اجاگر کرکے اس ندی اور شہر کو پہلے سے بھی خوبصورت بنایا جاسکتا ہے۔ شجر کاری مہم کے پہلے روز سول سو سائٹی کے افراد،ریسیکیو اہلکاروں ،سکاؤٹس،صحافیوں اور دیگر افراد نے شرکت کی، مہم میں شریک لوگوں کا کہنا تھا کہ مینگورہ کے اس خوڑ کا پانی میں دس پندرہ سال پہلے استعمال کا قابل تھا ،بلکہ مینگورہ سے چند کلو میٹر دور پانڑ اور دنگرام میں اس ندی کا پانی پینے کیلئے بھی استعمال ہوتا تھا مگر بدقسمتی سے آج اس پانی سے بدبو آتی ہے اور یہ ندی گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی ہے اور قسم قسم بیماریوں کا سبب بن رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ درختوں کی کمی کی وجہ سے اس شہر کو شدید ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے اور دن بدن سوات کی آب و ہوا گرم ہوتی جارہی ہے جوکہ انتہائی حد تک تشویشناک ہے مزید یہ کہ درختوں کی عدم موجودگی کے باعث زیر زمین پانی کی سطح یعنی واٹر ٹیبل بھی نیچے گرتی جارہی ہے لہٰذا بروقت شجرکاری ہی واحد حل ہے چاہے وہ حکومتی سطح پر یا عوامی سطح پر لیکن ایک دوسرے کا انتظار کئے بغیر ہر شخص کو کم از کم ایک پودا لگانا چاہئے اور اس پودے کو بڑا ہونے تک محفوظ رکھنے تک سعی کرنی چاہئے کیونکہ اس کے خوشگوار اثرات ائندہ نسلوں پر پڑینگے۔مہم کے منتظمین کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلہ میں دو سو سے زائد پودے مینگورہ خوڑ کے کنارے لگائے گئے جبکہ یہ سلسلہ جاری رہیگا اور اگلے مرحلہ میں مرغزار خوڑ کے کناروں پر پودے لگائے جائنگے۔

Facebook Comments