Ad

سابق ناظم اعلیٰ سوات ملک سردار علی قتل کے مقدمہ میں بری ہوگئے

9

Ad

سوات (زما سوات ڈاٹ کام ، 13 ستمبر 2018ء) سابق ناظم اعلیٰ سوات ملک سردار علی خان مقدمہ قتل میں بری ہوگئے ، مستغیث مقدمہ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے ملزم کے خلاف الزام واپس لیا ، واضح رہے قتل کے ایک مقدمہ میں وقوعہ کے 9 ماہ بعد ملک سردار علی خان کے خلاف دعویداری ہوئی تھی ، ملک سردار علی خان دو مرتبہ یونین کونسل ملکانان کے ناظم منتخب ہوئے تھے، ملک سردار علی خان سوات کے سال2003میں ناظم اعلیٰ بھی منتخب ہوتے تھے ،مزید یہ کہ سال 2015میں سیدو شریف میں عماد حسین کے قتل کے سلسلے میں ایک ایف آئی آر رجسٹر ہوا تھا ، ایف آئی آر میں مستغیث نے وقوعہ کا چشم دید گواہ نہ ہونے کی وجہ سے ایف آئی آر میں کسی کے خلاف دعویداری نہیں کی اور اس طرح ملک سردار علی خان کا نام مذکورہ ایف آئی آر درج نہیں تھا ، اسلئے طویل تفتیش ہونے کے بعد عدالت اس نتیجہ پر پہنچی کہ وقوعہ کسی کا چشم دید نہیں ہے اوربدیں وجہ مقتول کے ورثاء کسی کے خلاف دعویداری کرنا نہیں چاہتے اور اس طرح مقدمہ کا چالان بصیغہ عدم پتہ خارج کرنے کی سفارش کرکے مثل مقدمہ متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ درجہ اول کے عدالت میں داخل کیا تھا ، یہ کہ چالان مذکورہ مجسٹریٹ کی عدالت میں 4ماہ تک التواء میں رہا اور مجسٹریٹ نے مقدمہ مجاز عدالت سیشن جج سوات 4ماہ تک ارسال نہیں کی ، اس دوران مقدمہ میں مصنوعی طریقے سے جان ڈالنے کے لئے مسماۃ (ح) نے پولیس کے سامنے آکر ایسی بیان قلمبند کروائی جس سے شک کی انگلیاں ملک سردار علی خان کی طرف اٹھنے لگی ، چونکہ ملک سردار علی خان سوات کے سیاسی رفق پر ایک اہم سیاسی رول ادا کرتا رہا ہے اسلئے ملک سردار علی خان کے خلاف کئی افراد اور حلقے سرگرم عمل رہے ہیں اور اسی طرح مسماۃ (ح)جو کہ ملک سردار علی خان کے خلاف سازش تیار کرنے کیلئے ایک اہم کڑی تھی بالواسطہ بیان بنیاد بنا کر قتل کے مقدمہ میں وقوعہ کے 9ماہ بعد دعودیداری کی گئی اور ملک سردار علی خان کو یوں قتل کے مقدمہ میں ملزم نامزد کردیا ، واضح رہے کہ مسماۃ (ح) کے خلاف ملک سردار علی خان کی طرف سے ایک فیملی مقدمہ میں فیملی کورٹ اسلام آباد نے مسماۃ (ح) کے خلاف دعویٰ اعادہ حقوق زن اشوئی ڈگری فرمائی ہے اسلئے مسماۃ ( ح) ملک سردار علی خان کے خلاف سازش کا مہر ہ بننے کے لئے تیار ہوگئی ، چونکہ ملک سردار علی خان اپنے خلاف مذکورہ سازش تیار کرنے سے کافی عرصہ تک لاعلم تھے اسلئے بعدازاں مقدمہ سے باخبر ہونے کے بعد عدالت جناب سیشن جج سوات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کردی جو کہ منظورہوگئی اور بعد ازاں مقدمہ میں ہر دوفریقین عدالت موصوف میں حاضر ہوئے اور مقدمہ کو مشران کی مداخلت اور کوششوں سے مستغیث ملک سردار علی کے خلاف اپنی دعویداری واپس لی ، اس طرح مقتول کے والدین کا مشترکہ بیان عدالت میں قلمبند ہونے کے بعد مقدمہ کا ڈراپ سین ہونے کے بعد ملک سردار خان کو عدالت نے بری کردیا ، اسطرح یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملک سردار علی خان اپنے خلاف بغیر کسی شہادت اور ابتدائی رپورٹ میں نامزدگی کے مختلف اداروں ، حلقوں اور ملک سردار علی خان کے ساتھ ذاتی دشمنی رکھنے والے افراد کے خلاف مجاز عدالت میں قانونی چارہ جوئی کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

Ad

Leave A Reply

Your email address will not be published.