سوات کے جنگلات کا رقبہ 17 فیصد سے بڑھاکر 27.5 فیصد کردیا گیاہے، محمد یوسف خان

سوات (زما سوات ڈاٹ کام ، 03 اکتوبر 2018ء) کنزرویٹرفارسٹ ملاکنڈ ایسٹ سرکل محمد یوسف خان نے کہا ہے کہ جنگلات کا تحفظ اور ترقی انسانی بقاء اور ماحول کیلئے نہایت ضروری ہے صوبائی ومرکزی حکومتوں کی جانب سے جنگلات کا رقبہ بڑھانے کیلئے سرسبز پاکستان اور بلین ٹری سونامی جیسے منصوبوں کو بین الاقوامی پزیرائی مل رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت ملک میں جنگلات بڑھانے اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے موئثر اقدامات کررہی ہے پچھلی صوبائی حکومت کی ایک بلین شجرکاری مہم کی کامیابی اور مقبولیت کی بدولت مرکزی حکومت نے اب دس ارب اور پاک فوج نے دس کروڑ درخت لگانے کے اہداف مقرر کئے جنکے ماحولیاتی بہتری پر انقلابی اثرات مرتب ہونگے ملاکنڈ میں جنگلات کی ترقی کیلئے وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جارہاہے گزشتہ چند برسوں میں ملاکنڈریجن باالخصوص سوات کے جنگلات کا رقبہ 17 فیصد سے بڑھاکر 27.5 فیصد کردیا گیاہے جسے مزید بڑھانے کیلئے وارفٹنگ پردن رات کام جاری ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پختونخوا ایف ایم ریڈیو 98 سوات کے ہفتہ وار پروگرام’’حال احوال‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا محمد یوسف خان نے کہا کہ جنگلات کے تحفظ کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ سوات میں درختوں کی کٹائی کے حوالے سے واقعہ بہت بڑی غلط فہمی کی وجہ سے پیش آیایہ وہ درخت تھے جو اپنی عمر پوری کرنے کے بعد ناکارہ ہوچکے تھے یاسیکورٹی رسک بن چکے تھے اور اس سلسلے میں عوام اور اداروں کی شکایات کے علاوہ ہمیں انہیں کاٹنے کیلئے باقاعدہ قانونی نوٹس بھی مل چکے تھے جبکہ ان کی کٹائی کیلئے دو ماہ قبل محکمہ سے اجازت لیکرٹینڈر بھی ہو چکاتھا تاہم واقعہ عین قومی شجرکاری مہم کے آغاز کے دن سامنے آنا محض سوئے اتفاق اور ٹھیکیدارکی لاعلمی کا نتیجہ تھاجسے میڈیا میں اچھال کر عوام میں بے چینی اور سنسنی پھیلائی گئی انہوں نے کہا کہ جنگلات کی ترقی کیلئے قدرتی طریقہ کار اپنانا ضروری ہے جس کے تحت خاص عمر تک پہنچنے والے درختوں کو کاٹنا بھی ضروری بن جاتا ہے کیونکہ تب وہ آکسیجن کی پیداوار بندکرکے نقصان دہ گیسوں کا اخراج بڑھادیتے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یوکلپٹس یا الائچی کے درختوں اور شجرکاری کے حوالے سے لوگوں میں پائے جانے والے خدشات بے بنیادہیں کیونکہ یہ درخت اپنی ضرورت کا پانی طویل عرصہ تک محفوظ رکھنے کی صلاحیت کی وجہ سے مضر نہیں بلکہ مفید ہے اس درخت کے خلاف نفرت بھی غلط فہمی کی وجہ سے بڑھی ہے جسے دور کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ درخت شہد کی مکھیوں کے نیکٹرسمیت حیاتیاتی تنوع سے بھی مالا مال ہے انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں مرکزی وصوبائی حکومت اور پاک فوج سمیت تمام اداروں سے مل کر نہ صرف ملاکنڈاور خیبر پختونخوا بلکہ ملک بھر میں سرسبزپاکستان منصوبہ کے تحت اربوں کی تعداد میں درخت لگاکر ملک میں پانی بحران اور ماحولیاتی بگاڑ کے امکانات کم سے کم سطح پر لانے کیلئے ہنگامی اقدامات شروع کردیے گئے ہیں جس میں عوام کو بھی حکومت اور اداروں کی معاونت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ہماری آئندہ نسلوں کی بقاء کا سوال ہے جس سے عہدہ برآہ ہونے کیلئے پوری قوم کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے پروگرام میں محمدیوسف خان نے سامعین کی جانب سے براہ راست سوالات کے جوابات بھی دیئے اس موقع پر انہوں نے صوبائی حکومت کے نمائندہ ریڈیو پختونخوا ایف ایم 98 اورمحکمہ اطلاعات کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی پروگراموں سے لوگوں میں آگاہی اور شعورپیدا ہورہا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...