اشتہار

سیکیورٹی فورسز نے گیارہ سال بعد سوات سے ایمرجنسی ختم کردی،اختیارات باقاعدہ طور پر سول انتظامیہ کو منتقل

11

اشتہار

سوات (زما سوات ڈاٹ کام ، تازہ ترین۔ 22 اکتوبر 2018ء) سیکیورٹی فورسز نے گیارہ سال بعد سوات میں آپریشن اور ایمرجنسی ختم کرتے ہوئے تمام اختیارات اورانتظام سول حکام کے حوالے کردئیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سوات میں سیدوشریف ایئرپورٹ پر پاک فوج کی جانب سے اختیارات حوالے کرنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں وزیراعلیٰ کے پی محمود خان،کور کمانڈرپشاور نے شرکت کی، کمشنر مالاکنڈ اور ڈی آئی جی سعید خان وزیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی محمودخان نے کہا جنت نظیروادی پرقبضہ کیاگیاتھا، دہشت گردی عروج پرتھی لیکن عوام نےبہادری کامظاہرہ کیا ، پاک فوج اورعوام نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قربانیاں دیں۔وزیراعلیٰ کےپی کا کہنا تھا کہ عوام کے چہروں پر مسکراہٹ لانے پر پاک فوج کےمشکورہے، امن کی بحالی کے بعد پاک فوج نےترقیاتی کام شروع کیے، پاک فوج نےسوات کےعوام کےدل جیت لیے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کورکمانڈرپشاورنذیربٹ نے کہا پاک فوج نے دہشت گردوں کا صفایا کیا، امن عوام اور فورسزکی قربانیوں کا نتیجہ ہے، عوام نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔کور کمانڈرپشاور کا کہنا تھا کہ آج کا سوات ایک مختلف سوات ہے، امن لوٹ چکا ہے ،تجارت اور ترقی کا آغاز ہوچکا ہے ، آج سوات کی بنیادی ذمے داری انتظامیہ کے حوالے کردی، 80 فیصد چیک پوسٹوں کو ختم کردیا۔انھوں نے مزید کہا تمام سیکیورٹی ذمے داریاں بھی انتظامیہ کےحوالے کریں گے، سوات میں حقیقی معنوں میں ایک کامیاب آپریشن کیا، یقین دلاتاہوں سوات سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا۔نذیر بٹ کا کہنا تھا کہ خطرات سے نمٹنے کے لیے عوام کے تعاون کی ضرورت ہے، افغان سرحد پر 415 کلو میٹرکی فینسنگ مکمل ہوچکی ہے۔اس سے قبل جنرل آپریشنل کمانڈر میجرجنرل خالد سعید کی جانب سے شرکا کو بریفنگ دی گئی، واضح رہے کہ پاک فوج کو دفعہ 245 کے تحت سول اختیارات تفویض کئے گئے تھےیاد رہے کہ 15 ستمبر 2013 کو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن سے فوج کی بتدریج واپسی کی اصولی طورپر منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ اکتوبر 2013 سے ضلع شانگلہ اور بونیر سے فوجی دستوں کے انخلاء کا عمل شروع کیا جائے گا۔ جبکہ اس کے بعد سوات ، اپر دیر، لوئر دیر اور دیگر علاقوں سے بھی فوج کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوگا۔ُصوبائی حکومت کے اس فیصلے کو 5 سال گزر گئے تاہم ملاکنڈ ڈویژن سے تاحال فوج کے انخلا کا عمل مکمل نہ ہوسکا۔

اشتہار

Leave A Reply

Your email address will not be published.