Ad

Ad

Ad

سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کی فعالیت اور اس میں نو تعمیر شدہ دو نئے شعبے کھولنے سے متعلق اجلاس

206

Ad

سوات (زما سوات ڈاٹ کام ، تازہ ترین۔ 22 دسمبر 2018ء) چیئرمین ڈیڈیک سوات فضل حکیم خان کی زیرصدارت سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کی فعالیت اور اس میں نو تعمیر شدہ دو نئے شعبے کھولنے سے متعلق اجلاس ہوا جس میں ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو پروفیسر ڈاکٹر اسرارالحق، ایم ایس ڈاکٹرسعداللہ خان، ڈی ایم ایس ڈاکٹر محمد سلیم، ڈاکٹر سیف اللہ خان، ڈاکٹر انورزیب، تمام 20 شعبوں کے رجسٹرارز، انچارج ڈاکٹروں اور نرسز و پیرامیڈکس شعبوں کے سربراہان نے شرکت کی ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو نے ملاکنڈ کے اس اہم ترین ڈویثرنل ہسپتال اور سیدو میڈیکل کالج کی ترقیاتی سکیموں میں گہری دلچسپی لینے بالخصوص ایمرجنسی ادویات کیلئے 5کروڑ روپے کے فنڈز جلد ریلیز کرانے پر چیئرمین ڈیڈیک کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہسپتال میں نئے بلاک اور دیگر کئی شعبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اس موقع پر فضل حکیم خان نے ہسپتال میں نو تعمیر شدہ برن یونٹ اور جدید لیبارٹری کا دسمبر کے آخر میں افتتاح کی دعوت قبول کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہسپتال پر بڑھتے ہوئے مریضوں کے دباؤ کے پیش نظر اس میں زیادہ گنجائش اور بستروں کے برن سنٹر کے علاوہ جدید آئی سی یو اور دیگر کئی سہولیات کی اشد ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ 500 بستروں کے نئے بلاک کے افتتاح کے بعد وزیراعلیٰ سوات میں 700بستروں کے نئے بلاک کی تعمیر کا اعلان بھی کرینگے کیونکہ وہ سوات میں صحت اور تعلیم کے دونوں شعبوں کی ہنگامی بنیادوں پر بہتری چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں مجھ سے بھی قریبی رابطے میں ہیں انہوں نے واضح کیا کہ صحت اور تعلیم کے شعبے موجودہ حکومت کے اہم ترین اہداف میں شامل ہے جس میں سیدو ہسپتال کی فعالیت سرفہرست ہے انہوں مزید واضح کیا کہ دیگر شعبوں کی طرح ہسپتال میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی جس پر سوات کے تمام ارکان اسمبلی بھی متفق ہیں اور یہی یقین دہانی تمام بلدیاتی نمائندوں کی طرف سے بھی ہے اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ ہسپتال میں کام چور اور ناقص کارکردگی کے حامل ڈاکٹروں ،نرسز اور دوسرے پیرامیڈیکل سٹاف کو دوسرے وارڈوں میں بطور سزا ٹرانسفر کرنے اور ایماندار افراد کو ڈسٹرب کرنے کی بجائے ایسے بدعنوان عملے کو ضلع بدر کیا جائے گااور ان کا تبادلہ کسی قیمت پر کینسل نہیں کیا جائے گا اسطرح ہسپتال کا تمام عملہ اپنا مخصوص یونیفارم لازمی پہنے گا تاکہ اُن کی عام مریض پہچان کرسکیں جبکہ یونیفارم نہ پہننے پر متعلقہ اہلکار کا یونیفارم الاونس کاٹ دیا جائے گااسی طرح سیدو شریف کیجولٹی اوررات کے شفٹوں میں عملے کاماہانہ بنیادوں پر دوسرے وارڈوں میں تبادلہ کیا جائے گا نیز ہسپتال کا ٹراما سنٹر تمام ایمرجنسی مریضوں کیلئے مخصوص کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا فضل حکیم خان نے واضح کیا کہ ایمرجنسی مریض یا زخمی کا ہسپتال کے گیٹ پر پہنچتے ہی متعلقہ عملہ اسے فوری اٹنڈ کرے اور علاج کا آغاز کرے اسی طرح انہیں ادویات بھی بلامتیاز مہیا کی جائیں جس میں امیر و غریب کا کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے ۔

Ad

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.