بہترین سماجی خدمات پر سوات کے نوجوان شاعر ریاض احمد حیران کو گولڈ میڈل سے نواز ا گیا

133

اشتہار

سوات(زما سوات ڈاٹ کام ، تازہ ترین۔ 24 جنوری 2018ء) بہترین سماجی خدمات پر سوات کے نوجوان شاعر ریاض احمد حیران کو گولڈ میڈل سے نواز ا گیا کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام شاہ، ڈی آئی جی ملاکنڈ محمد سعید وزیر اور اے ڈی انفارمیشن سوات غلا م حسین غازی نے کمشنر آفس میں ایک سادہ مگر پر وقار تقریب کے دوران ریاض احمد حیران کو یہ گولڈ میڈل پہنایا یاد رہے کہ ریاض احمد حیران نے سوات پولیس کے تعاون سے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے فعال مرکز قائم کیا ہے اور قلیل مدت میں ناکافی وسائل کے باوجود ناقابل یقین کامیابیاں حاصل کرکے دنیا کو حیران کردیا ’’نوے جوند‘‘ کے نام سے یہ بحالی مرکز سوات کے سرکاری سنٹرل ہسپتال میں قائم کیا گیا جہاں نوے جوند تنظیم کے ڈائریکٹر ریاض احمد حیران نے بے لوث انسانی خدمت کا لوہا منوایا اور ثابت کردکھا یا کہ نشے کی لعنت کو شکست دی جاسکتی ہے نشے کے عادی افراد کو جہاں لوگ اور اپنے ہی گھر والے نفرت بھر ی نظروں سے دیکھتے ہیں وہاں ریاض احمد حیران ان افراد کو گلے سے لگاکر انکی بلاامتیاز خدمت کرتے ہیں’’ نوے جوند‘‘ نے ان نوجوانوں اور بچوں کو زندگی کی نئی امید دی جو نشے کے ہاتھوں زندگی کا مقابلہ ہارچکے تھے مایوسی ان کا مقدر بن رہی تھی یہ نشہ معاشرے کے بچوں اور خواتین کو بھی اپنے لپیٹ میں لے چکا تھا ایسے میں نوے جوند کا قیام ان خاندانوں کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں اس موقع پر کمشنر ملاکنڈ نے نوجوان شاعر کی سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ سب کا فرض ہے کہ وہ اس کوشش میں ریاض حیران کے کاندھے سے کاندھا ملائیں اور اس جہاد میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں جس میں سوات پولیس پہلے سے ہی معاونت کررہی ہے ڈی آئی جی ملاکنڈ محمد سعید وزیر ،ڈی پی او سوات سید اشفاق انور ،ایس پی سوات پولیس خانخیل خان ڈی ایس پیز،ایس ایچ اوز اور تمام پولیس جوان اس مہم میں ’’نوے جوند‘‘ کے مدد گار بنے ہیں جبکہ سابقہ ڈی پی او سوات اور موجودہ ڈ ی آئی جی کوہاٹ اعجاز خان اس تنظیم کے بانی ہیں سید ظہیر الاسلام شاہ نے کہا کہ نشئی افراد کی بحالی صرف ریاض احمد حیران، نوی جوند اور سوات پولیس کی ذمہ داری نہیں ہے اور ناہی یہ لوگ اکیلے اس تنظیم کو چلاسکتے ہیں جب تک عوا م اس جہاد میں ان کا ساتھ نہیں دیتے تب تک مطلوبہ نتائج کا حصول ناممکن ہے سوات جیسے علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں ہمارے پیارے اس لعنت میں مبتلا ہیں جبکہ اس کی روک تھا م اور بحالی کیلئے صرف یہی ایک سینٹر کام کررہاہے اس موقع پر ریاض احمد حیران نے بتایا کہ یہ بحالی مرکز وسائل کی کمی کیوجہ سے بیک وقت تقریبا 30افراد کے علاج معالجے اور تربیت کی استطاعت رکھتا ہے مگر اب تک چند مہینے میں ہی اس سنٹر میں زیر علاج افراد کی تعداد 200سے بڑھ گئی ہے جس میں اکثریت چھوٹے بچوں کی ہے اور جن کی عمریں چھ سال سے بیس سال کے درمیان ہیں کمشنر ملاکنڈ نے انہیں صوبائی حکومت اور ڈویژنل انتظامیہ کی جانب سے ہر ممکن تعاؤن کا یقین دلایا

اشتہار

Leave A Reply

Your email address will not be published.