اے این پی کے رہنماؤں کا سیکورٹی واپس لینے پر شدید برہمی کا اظہار اور احتجاج کی دھمکی

سوات(زما سوات ڈاٹ کام) عوامی نیشنل پارٹی سوات کے رہنما وں سے سیکورٹی واپس لینے پر تحفظات عدم فراہمی پر اپنے مسلح سالاروں کے ذریعے قائدین کو سیکورٹی دینے اورپر تشدد احتجاج کی دھمکی، کسی بھی قسم کی نقصان کی ذمہ داری موجودہ حکومت کے وزیر اعلیٰ اور صوبے کے چیف سیکرٹری پر ہوگی، ان خیالات کا اظہار اے این پی سوات کے ضلعی جنرل سیکرٹری شاہ دوران خان نے سوات پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے عہدیداروں سے جمہوری طریقے سے احتجاج برداشت نہیں ہورہا ہے،9جون کو ملک میں کمر توڑ مہنگائی کے خلاف احتجاج پر ضلعی صدر ایوب اشاڑے، ضلع کونسل سوات کے نائب ناظم عبدالجبار خان اور تحصیل ناظم اکرام خان سے سیکورٹی واپس لینا حکومت کے بوکھلاہٹ کا کھلا ثبوت ہے حالانکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ سوات میں امن کی بحالی کیلئے سیکورٹی فورسز کے جوانوں کے شانہ بشانہ جو قربانیاں اے این پی کے قائدین اور کارکنوں نے دی ہے وہ ہر کسی کو معلوم ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر سیکورٹی واپس لینے کا ظالمانہ اور بدنیتی پر مبنی فیصلہ فوری طور پر واپس لے کر ان قائدین کو سیکورٹی فراہم نہ کی گئی تو اے این پی کے کارکنان بندوق ہاتھ میں لے کر اپنے رہنماؤں کی حفاظت خود کریگی اور ایسے میں پر تشدد احتجاج کا سلسلہ بھی شروع کیا جائے گا کیونکہ این این پی ایسے حکومتی ہتھکنڈوں کو جوتے کے نوک پر رکھتی ہے، ملک میں کمر توڑ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے ایسے میں ہم اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑسکتے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ یکطرفہ احتساب کی بجائے موجودہ حکومت کے پچھلے دور میں ملم جبہ اسکینڈل اور بلین سونامی ٹری منصوبوں میں کئے گئے کرپشن کی بھی انکوائری کی جائے اور اس میں ملوث پرویز خٹک کو گرفتار کرکے قرار واقع سزادی جائے، پریس کانفرنس میں سابق ایم پی اے رحمت علی خان، سوات کے سینئر نائب صدر خواجہ محمد خان، عبدالمالک، صبور خان، نادر خان اور عاصم خان نے بھی سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ شرکت کرکے پارٹی قائدین سے یکجہتی اور ان کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کرنے کا عزم کیا۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...