تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے ٹھاہ! ،سوات کے ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

سوات (زما سوات ڈاٹ کام ، تازہ ترین۔ 01 اگست 2019ء) ضلع سوات میں کالجز نہ ہونے کے باعث سوات کے ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔ جہانزیب کالج میں سیٹیں کم ہونے کے باعث 850 سے زائد نمبر لینے والے طلبا بھی داخلوں سے محروم رہ گئے جبکہ حکومت نے تعلیمی میدان میں انقلاب کے دعؤوں کے باوجود ضلع سوات میں ایک بھی نیا کالج قائم نہیں کیا۔ذرائع کے مطابق ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں ایک پوسٹ گریجویٹ کالج ہے جبکہ ایک ہی ڈگری کالج ہے۔جہانزیب پوسٹ گریجویٹ کالج اس وقت قائم ہوا جب سوات پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ ایک خود مختار ریاست تھی۔  اس کی بنیاد سابق والئی سوات نے 1952 میں رکھی۔ اس کے بعد سوات میں کوئی پوسٹ گریجویٹ کالج نہ بن سکا۔جہانزیب کالج کی عمارت 2015 میں زلزلہ کے باعث مخدوش قرار دی گئی اور اس کا کچھ حصہ مسمار بھی کیا گیا تاہم اس کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا۔ماضی میں کالج میں ہرسال ایک ہزار سے بارہ سو تک طلبا کو داخلہ دیا جاتا تھا۔ اب نو ہزار سے زائد درخواستوں میں سے صرف ساڑھے بارہ سو تک طلباء کو داخلہ مل سکے گا۔ان طالب علموں کو اب پرائیویٹ کالجز میں بھاری فیسیں دے کر گیارہویں جماعت میں داخلہ حاصل کرنا ہوگا یا سوات سے نکل کر دوسرے شہروں میں ہاسٹلوں میں قیام کرنا پڑے گا۔جہانزیب کالج انتظامیہ کے مطابق عمارت کئی برس کے بعد بھی تعمیر نہ ہوسکی ہے۔ طالب علموں کو بٹھانے کی جگہ نہیں ہے۔ ہم پالیسی کے تحت ہی بچوں کو داخلہ دے سکتے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کالج کے پاس اپنے دو بڑے ہاسٹل موجود ہیں۔ ان میں تدریسی عمل شروع کیا جائے تاکہ ہزاروں بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچایا جاسکے۔اس کے ساتھ ساتھ مینگورہ شہر کے اکلوتے ڈگری کالج میں امسال محض چار سو طلبہ کو داخلہ دیا جارہا ہے جبکہ یہاں بھی داخلہ کے خواہش مند ہزاروں کی تعداد میں ہے۔ طلباء تنظیموں نے تجویز پیش کی ہے کہ موجودہ کالجوں میں سیکنڈ شفٹ کا جراء کیا جائے اور مینگورہ میں موجود سرکاری کالج ہاسٹلوں کو کلاسز کیلئے استعمال میں لایا جائے تاکہ بچوں کا مستقل تاریک ہونے سے بچایا جاسکے۔

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...