سوات میں تین اہم شدت پسند کمانڈروں کے داخلے کی اطلاع ،تصاویر والے پوسٹر مختلف علاقوں میں چسپاں

4,320

اشتہار

سوات (زما سوات ڈاٹ کام ، تازہ ترین۔ 11 ستمبر 2019ء)   سوات پولیس نے ملاکنڈ ڈویژن میں داخل ہونے والے تین اہم شدت پسند کمانڈروں کی تصاویر والے پوسٹر مختلف علاقوں میں چسپاں کر دیے گئے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سوات سے فوجی آپریشن کے دوران افغانستان فرار ہونے والے چار دہشت گردوں کو سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں حالات خراب کرنے کے لیے انڈین خفیہ ایجنسی ”را“ نے بارہ کروڑ پاکستانی روپے دیے ہیں۔ ان دہشت گردوں میں ایک اہم کمانڈرگل شیروان چند روز قبل تحصیل مٹہ کے علاقہ پیوچار میں پولیس کے ساتھ چھڑپ میں مارا گیا تھا۔ باقی شدت پسند فرار ہوگئے ہیں۔ پولیس نے فرار ہونے والے شدت پسندوں کمانڈر بخت زادہ، نعیم المعروف خاکساراور شوکت علی المعروف جگر کی داڑھی اور حلیہ بدلنے کی صورت میں بغیر داڑھی والی تصاویر پوسٹروں کی شکل میں چسپاں کی ہیں۔ نیز ان کی مردہ یا زندہ گرفتاری پر انعام بھی مقرر کیا ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آر پی او) ملاکنڈ ڈویژن محمد اعجاز خان کی قیادت میں گذشتہ روز پولیس نے تحصیل مٹہ کے علاقہ پیوچار میں مطلوب شدت پسندوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن کیا، جس کی قیادت آر پی او محمد اعجاز خان نے کی۔ انہوں نے پیوچار کی جنگلات میں دن بھر سرچ آپریشن کیا، لیکن شدت پسند اس علاقہ سے فرار ہوچکے تھے۔ اس موقع پر آر پی او نے مقامی لوگوں کو کہا کہ دہشت گرد اس علاقہ اور عوام کے لیے خطرہ ہیں۔ اس لیے اگر کوئی اجنبی یا مشتبہ شخص کسی علاقے میں ان کو نظر آئے، تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سوات پُرامن علاقہ ہے اور یہاں کسی کو امن خراب کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔ سوات اور بونیر کے سرحدی پہاڑی علاقہ”ایلم“ میں سوات، بونیر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ افغانستان سے آنے والے کچھ شدت پسند پیوچار سے فرار ہوکر ایلم کے جنگلات میں موجود ہیں جس پر بونیر سائیڈ سے بونیر پولیس اور سوات کی جانب سے سوات پولیس اور پاک فوج نے سرچ آپریشن کا آغاز کیا ہے۔ ایلم کے جنگلات میں یہ خصوصی آپریشن گذشتہ روز سے دن رات جاری ہے جس کی نگرانی آر پی او محمد اعجاز خان کر رہے ہیں۔

اشتہار

Leave A Reply

Your email address will not be published.