اشتہار

عدالت کا سانحہ ساہیوال کے تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم

62

اشتہار

اسلام آباد(ویب ڈیسک) انسداد دہشت گردی کی عدالت کا سانحہ ساہیوال سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔تفصیلات کے مطابق عدالت نے مقدمے میں ملوث تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔عدالت نے مقتول ذیشان کے بھائی احتشام سمیت مجموعی طور پر 49گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔مقتول خلیل کے بیٹے عمیر،مبینہ اور بھائی خلیل سمیت دیگر نے بھی بیانات قلمبند کروائے۔

ملزمان میں صفدر حسین،احسن خان،رمضان ،سیف اللہ، حسنین اور ناصر نوازعدالت میں پیش ہوئے۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اس کیس سے متعلق بڑا فیصلہ کرتے ہوئے تمام ملزمان کو شک کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔خیال رہے کہ ساہیوال میں کچھ ماہ قبل سی ٹی ڈی کی مبینہ کارروائی میں چار افراد جاں بحق ہوئے جن کی شناخت خلیل، نبیلہ، اریبہ اور ذیشان کے نام سے ہوئی تھی۔

فائرنگ کے دوران ایک بچہ گولی لگنے اور ایک بچی شیشہ لگنے سے زخمی بھی ہوئی۔ ہلاک ہونے والے خلیل اور نبیلہ بچ جانے والے تین بچوں کے والدین تھے جبکہ اریبہ ان بچوں کی بڑی بہن تھی جو ساتویں جماعت کیطالبہ تھی۔ سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونے والے چارافراد کی ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ مرنے والوں کوایک فٹ سے دس فٹ کے فاصلے سے گولیاں ماری گئی، خلیل کو 5گولیاں لگیں،3 سینے اور بازو پر جبکہ 2 گولیاں سر پر لگیں، نبیلہ کو ایک گولی کنپٹی پر جبکہ 2 گولیاں پیٹ پے لگیں،13سالہ اریبہ کو 6 فائر لگے جن میں 6 گولیاں سینے میں اور 3 گولیاں پیٹ میں لگیں. کار چلانے والے ذیشان کو بھی 6گولیاں لگیں۔

ایک گولی دائیں جانب سے گردن میں لگی باقی 5 گولیاں سینے میں لگیں، جس سے اس کی موت واقع ہوئی.واقعے کو کئی ماہ گزر گئے تاہم ابھی تک اس کیس میں کوئی اہم پیش رفت نہ ہو سکی نہ ہی مرنے والے لوگوں پر کوئی الزام ثابت ہو سکا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے پر سخت ردِعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ مقتول خلیل کے بھائی جمیل،جلیل اور 2 رشتے داروں افضال ناور سعید نے وکیل کے ہمراہ جے آئی ٹی کو تحریر ی بیانات قلمبند کروائے تھے۔

بچوں نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ابو نے پولیس والوں کو کہا جو چاہے لے لو،لیکن ہمیں نہ مارو۔معاف کر دو لیکن فون بند ہونے کے بعد اہلکار نے ساتھیوں کو اشارہ کیا اور انہوں نے دوبارہ فائرنگ شروع کر دی۔جس سے ابو ،ماما اور میری بڑی بہن جاں بحق ہو گئے۔فائرنگ کے دوران مرنے سے پہلے پاپا نے منیبہ کو اور ماما نے مجھے اور ہادیہ کو اپنے گھٹنوں میں چھپا لیا تھا۔

عمیر نے مزید بتایا کہ فائرنگ کے بعد پولیس اہلکاروں نے مجھے اور دنوں بہنوں کو گاڑی سے نکال کر دوبارہ گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی۔اور اس کے پولیس والے ہم تینوں بچوں کو لے گئے اور ویرانے میں جا کر پھینک دیا۔عمیر نے بتایا کہ میں اور منیبہ گولی لگنے کیو جہ سے درد سے کراہتے رہے کہ ایک انکل نے ہمیں اٹھا کر پٹرول پمپ پر چھوڑ دیا۔اس کے بعدپولیس والے آئے اور ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اسپتال چھوڑ دیا۔

عمیر نے یہ بھی بتایا کہ یہ جھوٹ ہے کہ گاڑی سے دہشت گردی کا کوئی سامان برآمد ہوا یا اندر سے کس نے فائرنگ کی۔جب کہ فائرنگ کا حکم دینے والے موقع پر موجود اہلکاروں سے رابطے میں رہے۔ فرانزک سائنس ایجنسی کا کہنا تھا کہ پولیس گاڑی پر 6 گولیاں لگیں جو کہ سرکاری اسلحہ سے فائر ہوئیں۔سی ٹی ڈی نے فائرنگ کرنے کے بعد سرکاری گاڑی میں لاشیں رکھ کر پولیس لائنز شفٹ کی تھیں جہاں سے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ بھی غائب ہے جبکہ ساہیوال ہسپتال کے سی سی ٹی وی کیمروں میں بھی ردوبدل کی گئی ۔

سانحہ ساہیوال میں استعمال اسلحہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی میں جمع کرا یا گیا تھا۔ پولیس اہلکاروں کی طرف سے استعمال کیا گیا اسلحہ جے آئی ٹی نے گرفتار سی ٹی ڈی اہلکاروں سے لے کر فرانزک کے لئے بھجوایا، جمع کرائے گئے اسلحہ میں 4 رائفلیں اور تین نائن ایم ایم پستول شامل ہیں جبکہ سانحہ میں استعمال گولیاں اور خول پہلے جمع کرائے جا چکے ہیں۔

اس کیس میں سی ٹی ڈی کی جانب سے فرانزک لیبارٹری کو دھوکہ دینے کا انکشاف ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق اہلکاروں کے زیر استعمال اسلحہ اور پولیس موبائل بدل کر دی گئیں۔ دی گئی پولیس موبائل کو کھڑی کر کےگولیوں کا نشانہ بنا کر فائرنگ کا تبادلہ بتایا گیا۔ اہلکاروں کے زیر استعمالاسلحہ بھی بدل کر دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ذیشان کی گاڑی کو صرف ایک سے ڈیڑھ فُٹ کے فاصلے سے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا،جائے وقوعہ سے 100 کے قریب گولیوں کے خول ملے۔

اشتہار

Leave A Reply

Your email address will not be published.