اشتہار

طالبہ قتل، بنگلہ دیشی عدالت نے 16 افراد کو سزائے موت سنادی

154

اشتہار

بنگلہ دیش(ویب ڈیسک) بنگلہ دیشی عدالت نے مدرسے کی 18 سالہ طالبہ نصرت جہاں کے قتل کا الزام ثابت ہونے پر 16 مجرمان کو سزائے موت سنادی۔

چٹاگانگ کے نزدیکی علاقے فینی میں قائم مدرسے کی ایک طالبہ نصرف جہاں کو رواں برس 6 اپریل کو مدرسے کے استاد کی ایما پر کچھ برقعہ پوش افراد نے آگ لگا دی تھی، جس کے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج 10 اپریل کو انتقال کر دی گئی تھی۔

مقتولہ نے مرنے سے قبل ایک ویڈیو پیغام بھی ریکارڈ کروایا تھا جس میں الزام عائد کیا تھا کہ اس تمام تر کارروائی کے پیچھے مدرسے کے ہیڈماسٹر ہیں۔

پولیس تحقیقات میں اس قتل کے پیچھے 16 افراد کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی جس میں مدرسے کے ہیڈماسٹر اور کلاس ہی کی دو لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے تمام مجرمان کو سزائے موت سنائی تو کمرہ عدالت میں موجود تمام مجرمان روپڑے جبکہ ان میں سے کچھ نے چلانا شروع کیا کہ انہیں انصاف نہیں ملا۔

عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروسیکیوٹر حفیظ احمد نے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بنگلہ دیش کی تاریخ کا تیز ترین ٹرائل تھا، اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ بنگلہ دیش میں کوئی بھی قتل کرنے کے بعد بچ نہیں سکتا۔

اس موقع پر مقتولہ کی والدہ آبدیدہ ہوگئیں اور کہا کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی اپنی بیٹی کو نہیں بھول سکتیں، میں اب بھی وہ کرب محسوس کر سکتی ہوں جس سے میری بیٹی گزری۔

دوسری جانب مجرمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ مقامی عدالت کی سزا کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کریں گے۔

واضح رہے کہ اپنے بیان میں نصرت جہاں نے مدرسے کے ہیڈ ماسٹر سراج الدولہ پر نازیبا انداز میں تشدد کرنے کا الزام عائد کیا تھا جبکہ پولیس تحقیقات میں تصدیق ہوئی تھی کہ ہیڈ ماسٹر نے ہی ان کے قتل کا حکم دیا تھا۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ انہیں ہیڈماسٹر کے تشدد کی رپورٹ پولیس تھانے میں درج کروانے سے روکنے میں کئی بااثر افراد بھی ملوث رہے۔

عدالت نے مدرسے کے ہیڈماسٹر کو واقعے کا مرکزی مجرم قرار دیا جبکہ عوامی لیگ سے ہی تعلق رکھنے والے 2 مقامی رہنما کو بھی قتل میں شریک قرار دیا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مقامی پولیس اہلکار بھی نصرت کی خودکشی کی جھوٹی خبر پھیلانے میں ملوث رہے جبکہ اس میں کوئی پولیس افسر شامل نہیں۔

نصرف جہاں کے اہل خانہ کو پولیس کی حفاظت میں رکھا گیا ہے، جن کا ماننا ہے کہ انہیں اب بھی قتل کیے جانے کا خدشہ ہے۔

اہل خانہ نے عدالتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مجرمان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

طالبہ کی ہلاکت کو پہلے پر اسرار کہا گیا اور پھر عندیہ دیا گیا تھا کہ اس نے خود کشی کی ہے، تاہم نیم بیہوشی کی حالت میں لڑکی نے فون پر جو ویڈیو بیان دیا اس نے بنگلہ دیش میں تہلکہ مچادیا، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔

قاتلوں کو فوری گرفتار کرنے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے بنگلہ دیش بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے۔

بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اشتہار

Leave A Reply

Your email address will not be published.