چترال کے علاقے سینگور میں پہلی بار شمسی توانائی سے چلنے والی آب نوشی سکیم مکمل

شمسی توانائی سے چلنے والے طاقتور موٹر کے ذریعے پانچ ہزار گیلن پانی فی گھنٹہ کے حساب سے کنویں سے نکل کر ساڑھے چار سو فٹ بلند ٹینکی میں پہنچایا جاتا ہے

صوبائی محکمہ پبلک ہیلتھ نے پہلی بار چترال میں کامیاب تجربہ کرکے سینگور کے مقام پر شمسی توانائی سے چلنے والی آبنوشی سکیم مکمل کروائی۔سینگور کے مقام پر ڈاکٹر کالونی کے قریب دس فٹ چھوڑا اور ایک سو اسی فٹ گہرا کنواں کھودا گیا۔ اس منصوبے پر تقریباً ڈھائی کروڑ روپے لاگت آئی

چترال(ویب ڈیسک) صوبائی محکمہ پبلک ہیلتھ نے پہلی بار چترال میں کامیاب تجربہ کرکے سینگور کے مقام پر شمسی توانائی سے چلنے والی آبنوشی سکیم مکمل کروائی۔سینگور کے مقام پر ڈاکٹر کالونی کے قریب دس فٹ چھوڑا اور ایک سو اسی فٹ گہرا کنواں کھودا گیا۔ اس منصوبے پر تقریباً ڈھائی کروڑ روپے لاگت آئی۔

جس سے میراندہ، سینگور، سین جال اور شاہ میراندہ کے مکینوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔یہ منصوبہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے جو اتنی گہرائی سے
شمسی توانائی سے چلنے والی موٹر کے زریعے پانی نکال کر 450 فٹ کے اونچائی پر ٹینکر میں ڈالا جاتا ہے جہاں سے ان چار دیہات کو پینے کی صاف پانی فراہم کی جائے گی۔ ایگزیکٹیو انجنیر محمد یعقوب نے کہا کہ اسے ایک چیلنج سمجھ کر ہم نے شروع کیا تھا اور تجرباتی بنیادوں پر اسے چلاکر کامیاب کریں گے اور اگر یہ پہلا منصوبہ کامیاب ہوا تو اس کے بعد چترال کے طول و عرض میں شمسی توانائی سے چلنے والے اس قسم کے اور منصوبے بھی شروع کئے جائیں گے جس میں نہ تو بجلی خرچ ہوتی ہے نہ ڈیزل بلکہ ایک دفعہ سولر پینل لگاکر اس کے ذریعے بیٹری چارج ہوتی ہے اور اس سے طاقتور موٹر بھی چلتی ہے۔اس منصوبے کے تکمیل پر سینگور اور مضافاتی علاقے کے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا کیونکہ اس کی کامیابی پر ان علاقوں میں پینے کی صاف پانی کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہوگا۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...