حکومتی درخواست مسترد، پے پال کا پاکستان آنے سے انکار

پاکستانی حکومت کی طرف سے امریکہ جا کر آن لائن ادائیگیوں کا نظام چلانے والی بین الاقوامی کمپنی پے پال کو پاکستان آمد پر راضی کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور کمپنی نے حتمی طور پر حکومت کو بتا دیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں پاکستان میں اپنی سروسز نہیں لا رہی،میں کاروباری مواقع ناکافی ہیں،پے پال پاکستان کے پڑوسی ملک انڈیا سمیت دنیا بھر کے 200 سے زائد ممالک میں شہریوں اور مختلف کاروباریوں کو رقوم بھیجنے اور وصول کرنے کی خدمات فراہم کرتی ہے۔

نیویارک (ویب ڈیسک) پاکستانی حکومت کی طرف سے امریکہ جا کر آن لائن ادائیگیوں کا نظام چلانے والی بین الاقوامی کمپنی پے پال کو پاکستان آمد پر راضی کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور کمپنی نے حتمی طور پر حکومت کو بتا دیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں پاکستان میں اپنی سروسز نہیں لا رہی،پاکستان میں کاروباری مواقع ناکافی ہیں،پے پال پاکستان کے پڑوسی ملک انڈیا سمیت دنیا بھر کے 200 سے زائد ممالک میں شہریوں اور مختلف کاروباریوں کو رقوم بھیجنے اور وصول کرنے کی خدمات فراہم کرتی ہے۔

پاکستان میں انٹرنیشنل پے منٹ گیٹ وے کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں جو پے پال، ماسٹر کارڈ، علی پے اور ویزا کے ساتھ منسلک ہوگا،پے پال اگر پاکستان آنے پر رضامند ہو جاتی تو اس سے ایک تجارتی اور کاروباری انقلاب آنے کے امکانات تھے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اعلی حکومتی حکام نے میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایا ہے کہ گذشتہ ماہ پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک وفد کمپنی کے ذمہ داروں سے مذاکرات کرنے امریکہ گیا تھا تاکہ کمپنی کو قائل کیا جا سکے کہ وہ اپنی خدمات پاکستان میں فراہم کرے۔تاہم مذاکرات میں امریکی کمپنی نے حتمی طور پر وفد کو بتایا کہ اس کے تین سالہ روڈ میپ میں پاکستان کا ذکر نہیں ہے کیونکہ ملک میں کاروباری مواقع ناکافی ہیں۔

پاکستانی وفد نے پے پال حکام کو سٹیٹ بینک اور دیگر اداروں کی طرف سے مالی معاملات کی شفافیت اور سکیورٹی سے متعلق کیے گئے اقدامات سے آگاہ کر کے انہیں پاکستان میں مکمل سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔پاکستان کے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے سربراہ شباہت علی شاہ نے بتایا کہ حکومت کی پوری کوشش تھی کہ پے پال پاکستان آئے اپنی سروسز کو یہاں رجسٹر کرائے تاکہ جو پاکستانی باہر سے اپنی آمدن حاصل کرتے ہیں انہیں رقوم منگوانے میں آسانی ہو تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ان کا کہنا تھا کہ پے پال ہر سال اپنے روڈ میپ کا جائزہ لیتی ہے اور مستقبل میں کبھی پاکستان آنے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے مگر فی الحال ایسا نہیں ہو پایا۔فری لانسر اور ای کامرس سے وابستہ افراد کا طویل عرصے سے مطالبہ ہے کہ پے پال کو پاکستان لایا جائے۔ اس سے قبل اسی حکومت کے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی پے پال کو پاکستان لانے کے عزم کا اظہار کیا تھا مگر ان کی کوششیں بھی ناکام رہی تھیں۔آن لائن دنیا میں پے پال کو رقوم کے لین دین کے حوالے سے ایک اہم مقام حاصل ہے۔ یہ ایک طرح سے کسی صارف کا ذاتی بین الاقوامی بینک اکاﺅنٹ ہوتا ہے۔ پے پال پاکستان کے پڑوسی ملک انڈیا سمیت دنیا بھر کے 200 سے زائد ممالک میں شہریوں اور مختلف کاروباریوں کو رقوم بھیجنے اور وصول کرنے کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر کے قریبا 10 کروڑ افراد معاوضے اور رقوم حاصل کرنے کے لیے یہ سروس استعمال کرتے ہیں۔اس سروس کو قریبا دو دہائیوں سے آن لائن رقوم کی ترسیل کا اہم طریقہ مانا جاتا ہے۔دنیا بھر میں کروڑوں آن لائن شاپنگ مالز اس سروس کے گاہک ہیں۔ یہ اپنے گاہگوں سے رقم کی ترسیل کا بہت معمولی معاوضہ لیتی ہے۔نیشنل آئی ٹی بورڈ کے سربراہ نے بتایا کہ پے پال کے انکار کے بعد بھی حکومت مایوس نہیں ہے اور اس وقت حکام پاکستان میں انٹرنیشنل پے منٹ گیٹ وے کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں جو پے پال، ماسٹر کارڈ، علی پے اور ویزا کے ساتھ منسلک ہوگ۔

شباہت علی شاہ پرامید ہیں کہ فروری تک گیٹ وے کا قیام عمل میں آجائے گا جس کے بعد بیرون ملک سے پے پال کے پاکستان آئے بغیر بھی پاکستان میں ادائیگیاں ممکن ہو سکیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ گیٹ وے کے قیام کے لیے دو تین بین الاقوامی کمپنیوں سے بات چیت چل رہی ہے اور اخراجات کے اشتراکی ماڈل کے ساتھ حکومت ان کمپنیوں کو بعد میں ادائیگی کرے گی۔ماہرین کے خیال میں پے پال اگر پاکستان آنے پر رضامند ہو جاتی تو اس سے ایک تجارتی اور کاروباری انقلاب آنے کے امکانات تھے کیونکہ ملک کے طول و عرض میں کاروباری شخصیات اور اجناس فروخت کرنے والے افراد براہ راست بین الاقوامی منڈی سے منسلک ہو جاتے اور زرمبادلہ بھی آنا شروع ہو جاتا۔

( خبر جاری ہے )

Comments
Loading...