بھارت کی کسی بھی جارحیت کا بھر پور جواب دیں گے، شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن اگر بھارت نے کوئی حرکت کی توبھرپور جواب ملے گا۔

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی حکومت کے شہریت کے متنازع بل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امتیازی شہریت ایکٹ کے خلاف 10 سے زیادہ بھارتی ریاستوں میں شدید احتجاج ہو رہے ہیں، ہندوستان کی پوری اپوزیشن، تمام اقلیتیں، بالخصوص مسلمان بل کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

( خبر جاری ہے )

وزیر خارجہ نے کہا مقبوضہ کشمیرمیں مسلسل کرفیو کو آج 139 دن ہو چکے ہیں، صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے ہندوستان کوئی فالس فلیگ آپریشن بھی کر سکتا ہے، لائن آف کنٹرول پر بھارت کی طرف سے اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا مودی سرکار خطرناک کھیل، کھیل رہی ہے جس سے پورے خطے کا امن متاثر ہورہا ہے۔ دنیا کواس صورتحال کا نوٹس لیناچاہیے۔ پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن اگر بھارت نے کوئی حرکت کی توبھرپور جواب ملے گا۔ گزشتہ روز بھارت نے اشتعال انگیزی کی جس کا ہماری فورسز نے بھرپور جواب دیا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطے میں امن وامان کی تشویشناک صورتحال کے بارے میں کہا کہ بھارت میں مودی سرکار کے ہتھکنڈوں کے خلاف عوام نے علم بغاوت بلند کر دیا ہے۔ پیر کواپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں نے احتجاج کی کال دے دی ہے جب کہ لکھنو میں اویسی صاحب کی قیادت میں ایک بڑی احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا ہے۔ دنیا بھر کے دارالخلافوں میں بھارت کے لوگوں نے احتجاجی مظاہروں کا شیڈول جاری کر دیا۔ کینیڈا، امریکا اور یورپ کے ممالک میں بھی احتجاج ہو رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا آج آر ایس ایس کی ہندوتوا سوچ نے بھارت کو تقسیم کر دیا ہے، سیکولر بھارت کے حامی ایک طرف اور ہندوتوا سوچ کے حامی دوسری جانب دکھائی دے رہے ہیں۔ ہم نے پی فائیو کے سفراء کو بھی اس ساری صورتحال سے آگاہ کردیا ہے، ہمیں خدشہ ہے کہ کرسمس کی تعطیلات کے دوران بھارت کوئی ناٹک رچا سکتا ہے، قوم جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ دنیا کے بہت سے ممالک کمرشل مفادات کی وابستگی کے سبب خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ منگل کوکابینہ اجلاس میں او آئی سی کا اجلاس بلانے کی بات سامنے رکھوں گا، او آئی سی سے باقاعدہ درخواست کرنا ہوگی کہ وہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں، حالات اس نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں کہ اس پر مزید خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...