سال 2019: کراچی میں 43 شہری ڈکیتی مزاحمت پر قتل

امن وامان کے بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود سال 2019 میں بھی شہر قائد کے باسیوں کی اسٹریٹ کرائمز سے جان بخشی نہ ہوئی اور گزشتہ سال 43 شہری ڈکیتی مزاحمت پر جان سے گئے

جنوری 2019 میں ایک شہری ڈکیتی مزاحمت میں جاں بحق ہوا اور فروری میں 7 افراد اسٹریٹ کرمنلز کی گولیوں کا نشانہ بنے جب کہ مارچ اور اپریل میں 6 شہری لقمہ اجل بنے۔ مئی میں 3 شہریوں کو موبائل چھینے کے دوران فائرنگ کرکے جان سے مار دیا گیا، جون اور جولائی میں 5 اور اگست اور ستمبر میں بھی اسٹریٹ کرمنل چین سےنہ بیٹھے اور مزاحمت کے دوران 10 شہریوں کو مار ڈالا۔

کراچی(ویب ڈیسک): امن وامان کے بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود سال 2019 میں بھی شہر قائد کے باسیوں کی اسٹریٹ کرائمز سے جان بخشی نہ ہوئی اور گزشتہ سال 43 شہری ڈکیتی مزاحمت پر جان سے گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوری 2019 میں ایک شہری ڈکیتی مزاحمت میں جاں بحق ہوا اور فروری میں 7 افراد اسٹریٹ کرمنلز کی گولیوں کا نشانہ بنے جب کہ مارچ اور اپریل میں 6 شہری لقمہ اجل بنے۔ مئی میں 3 شہریوں کو موبائل چھینے کے دوران فائرنگ کرکے جان سے مار دیا گیا، جون اور جولائی میں 5 اور اگست اور ستمبر میں بھی اسٹریٹ کرمنل چین سےنہ بیٹھے اور مزاحمت کے دوران 10 شہریوں کو مار ڈالا۔

اکتوبر اور نومبر میں بھی 10 افراد اپنی قیمتی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ ماہ دسمبر میں ایک شہری ڈکیتوں کی گولیوں کا نشانہ بنا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اسٹریٹ کرائمز کو روکنے کے لیے مختلف شعبوں کا اضافہ کیا لیکن شہر میں بڑھتی ہوئی وارداتوں اور مزاحمت پر فائرنگ کے واقعات میں کمی نا سکی۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...