آر ایس ایس کا جن جب بھی بوتل سے باہر نکلا اس نے خون خرابا کیا، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا جن جب بھی بوتل سے باہر نکلا اس نے ہمیشہ خون خرابا کیا

ماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں بھارت کے متنازع شہریت ترمیمی قانون سے متعلق ایک آرٹیکل پوسٹ کرتے ہوئی وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آر ایس ایس کے انتہا پسند نظریے نے ایک ارب سے زائد افراد پر مشتمل جوہری ملک پر قبضہ کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظریہ نسلی برتری اور مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں سے نفرت پر مبنی ہے۔  وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب بھی آر ایس ایس کا یہ جن بوتل سے باہر نکلا اس نے ہمیشہ خون خرابا کیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز بھارت کی وزارت داخلہ نے متنازع شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019 پر عملدرآمد کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا جس کےمطابق شہریت (ترمیمی) ایکٹ کی شقوں کا اطلاق 10 جنوری سے شروع ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ میں گزشتہ برس 11 دسمبر کو شہریت ترمیمی ایکٹ منظور ہوا تھا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ متوں، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائےگی۔

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا جن جب بھی بوتل سے باہر نکلا اس نے ہمیشہ خون خرابا کیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں بھارت کے متنازع شہریت ترمیمی قانون سے متعلق ایک آرٹیکل پوسٹ کرتے ہوئی وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آر ایس ایس کے انتہا پسند نظریے نے ایک ارب سے زائد افراد پر مشتمل جوہری ملک پر قبضہ کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظریہ نسلی برتری اور مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں سے نفرت پر مبنی ہے۔  وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب بھی آر ایس ایس کا یہ جن بوتل سے باہر نکلا اس نے ہمیشہ خون خرابا کیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز بھارت کی وزارت داخلہ نے متنازع شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019 پر عملدرآمد کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا جس کےمطابق شہریت (ترمیمی) ایکٹ کی شقوں کا اطلاق 10 جنوری سے شروع ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ میں گزشتہ برس 11 دسمبر کو شہریت ترمیمی ایکٹ منظور ہوا تھا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ متوں، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائےگی۔

اس بل کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بل کے تحت غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی، جو مارچ 1971 میں آسام آئے تھے اور یہ 1985 کے آسام معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔ مذکورہ قانون کو 12 دسمبر کو بھارتی صدر کی منظوری دی گئی تھی۔ متنازع شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے بعد سے بھارت بھر میں خصوصاً ریاست آسام میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جن میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں 9 جنوری کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو متنازع شہریت قانون کے نفاذ پر سخت احتجاج کے باعث بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا آسام کا دورہ منسوخ کرنا پڑگیا تھا۔  اس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے متنازع شہریت قانون کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ممبئی میں ایک اجلاس منعقد کروایا تھا جس میں نامور فلمی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا تاہم ایک بھی اداکار یا اداکارہ نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔ 4جنوری کو بھارت کی ہندو قوم پرست حکومت کے منظور کردہ مسلمان مخالف شہریت قانون کے خلاف جنوبی شہر بنگلور میں تقریباً 30 ہزار، سلی گوری میں 20 ہزار سے زائد اور چنائی میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا جبکہ نئی دہلی، گوہاٹی اور دیگر شہروں میں بڑی ریلیاں نکالی گئیں تھیں۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...