سندھ کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب، آئی جی کو ہٹانے کی منظوری دی جائے گی

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں آئی جی کلیم امام کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دیئے جانے کا امکان ہے۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مراد علی شاہ نے آج کابہنہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔  عموماً سندھ کابینہ کے اجلاس کی سمری تین سے 4 روز پہلے وزراء کو ارسال کی جاتی ہے جس میں اجلاس کا ایجنڈا بھی بتایا جاتا ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہنگامی اجلاس کو بلانے کا فیصلہ آج ہی کیا گیا اور صوبائی حکومت کے ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے حکام بھی اجلاس کے ایجنڈے سے لاعلم ہیں

کراچی(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں آئی جی کلیم امام کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دیئے جانے کا امکان ہے۔  ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مراد علی شاہ نے آج کابہنہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔  عموماً سندھ کابینہ کے اجلاس کی سمری تین سے 4 روز پہلے وزراء کو ارسال کی جاتی ہے جس میں اجلاس کا ایجنڈا بھی بتایا جاتا ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہنگامی اجلاس کو بلانے کا فیصلہ آج ہی کیا گیا اور صوبائی حکومت کے ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے حکام بھی اجلاس کے ایجنڈے سے لاعلم ہیں۔

 

ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں آئی جی سندھ کلیم امام کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دی جائے گی۔  ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سندھ حکومت آئی جی کلیم امام کو عہدے سے ہٹانے کے حوالے سے پہلے ہی آگاہ کر چکی تھی اور صوبائی حکومت نئے آئی جی کے لیے وفاق کو تین نام بھیجے گی، تینوں کا تعلق سندھ سے ہی ہے۔  خیال رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سندھ میں پولیس افسران کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں جب کہ آئی جی سندھ کلیم امام کی جانب سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔  آئی جی سندھ کلیم امام نے گزشتہ دنوں سندھ میں اہم افسران کی تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو خط لکھا تھا۔  کلیم امام کا کہنا تھا افسران کے اچانک تبادلوں نے محکمہ پولیس میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے، فیصلوں نے پولیس کے مورال اور آئی جی کی کمانڈ کو کمزور کیا ہے۔  ان کا اپنے خط میں مزید کہنا تھا کہ وہ فورس کے سربراہ ہیں اور انہيں افسران کی تبدیلی کے فیصلے میڈيا سے پتہ چلے جب کہ وہ تقرری اور تبادلوں کا اختیار رکھتے ہيں۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...