ہمارا چیلنج کرپٹ مافیا کا مقابلہ کرنا ہے: وزیراعظم

اکثر لوگ برے حالات میں امید ہار دیا کرتے ہیں لیکن زندگی میں آ گے جانے کے لیے مشکل حالات میں جینے کا سلیقہ آنا چاہیے,وزیراعظم

بڑے ہدف کو پانے کے لیے آپ کو اپنی کشتیاں جلانی پڑتی ہیں، ترقی کرنے کے لیے پہلے آپ کو بڑے خواب دیکھنے ہوتے ہیں لیکن جب آپ ترقی کے اوپر کے زینے پر ہوتے ہیں تو کبھی غرور نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان ایک نظریے کے تحت وجود میں آیا اور قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا بلوچستان میں ریکوڈک کے مقام پر سونے اور تانبے کی 14 کانیں موجود ہیں، پاکستان میں گیس اور کوئلے کے بھی وسیع ذخائر موجود ہیں، پاکستانی عوام میں ترقی کرنے کی بہت صلاحیت موجود ہے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج کرپشن ہے اور ہمارا چیلنج کرپٹ مافیا کا مقابلہ کرنا ہے ۔ ڈیووس میں بریک فاسٹ میٹ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا اکثر لوگ برے حالات میں امید ہار دیا کرتے ہیں لیکن زندگی میں آ گے جانے کے لیے مشکل حالات میں جینے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ جب والدہ کو کینسر ہوا تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں کینسر کا اسپتال ہی نہیں ہے، والدہ کی تکلیف دیکھ کر فیصلہ کیا کہ پاکستان میں غریبوں کے لیے کینسر اسپتال بناؤں، جب کینسر اسپتال بنانے لگا تو 20 میں سے 19 ڈاکٹروں نے کہا آپ اسپتال نہیں بنا سکتے، آج کینسر اسپتال پر سالانہ 10 ا رب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا جب میں سیاست میں آیا تو تب بھی لوگوں نے میرا مذاق اڑایا، سیاست میں آیا تو اس وقت دو سیاسی جماعتیں باری باری اقتدار میں آتی تھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج کرپشن ہے، ہمارا چیلنج کرپٹ مافیا کا مقابلہ کرنا ہے جو ہر روز نئی افواہ پھیلاتے ہیں، کرپٹ مافیا نہیں چاہتی کہ حکومت کامیاب ہو،کچھ کرپٹ عناصر کا محاسبہ کیا جو اب جیل میں ہیں۔

پاکستان ایک نظریے کے تحت وجود میں آیا
عمران خان کا کہنا تھا بڑے ہدف کو پانے کے لیے آپ کو اپنی کشتیاں جلانی پڑتی ہیں، ترقی کرنے کے لیے پہلے آپ کو بڑے خواب دیکھنے ہوتے ہیں لیکن جب آپ ترقی کے اوپر کے زینے پر ہوتے ہیں تو کبھی غرور نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان ایک نظریے کے تحت وجود میں آیا اور قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا بلوچستان میں ریکوڈک کے مقام پر سونے اور تانبے کی 14 کانیں موجود ہیں، پاکستان میں گیس اور کوئلے کے بھی وسیع ذخائر موجود ہیں، پاکستانی عوام میں ترقی کرنے کی بہت صلاحیت موجود ہے۔

میرا وژن پاکستان کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنانا ہے
وزیراعظم نے کہا کہ اور 60 کی دہائی میں پاکستان ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے تھا، پاکستان کے پاس انتہائی با صلاحیت افراد ی قوت موجود ہے لیکن سابقہ حکومتوں نے افرادی قوت، تعلیم اور صحت پر اب تک کچھ خرچ نہیں کیا، ایک اور چیلنج سابقہ حکومتوں کے لیے گئے قرضوں کا انبار ہے، زیر گردش قرضوں کا حجم اربوں روپے تک بڑھ چکا ہے تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 75 فی صد تک کمی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں تنقید سے گھبرانے والا نہیں اور نہ ہی حالات پر سمجھوتہ کروں گا، میرا وژن پاکستان کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنانا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ہمارا چیلنج کرپٹ مافیا کا مقابلہ کرنا ہے جو ہر روز نئی افواہ پھیلاتے ہیں، گزشتہ 15 ماہ میری زندگی کے بہت زیادہ مشکل گزرے، اگر مشکل حالات میں آگے بڑھنے کا تجربہ نہ ہوتا تو شاید میں بھی ہمت ہار دیتا۔

ہمارے شمالی علاقوں میں سوئٹزر لینڈ سے زیادہ خوبصورت پہاڑ ہیں
انہوں نے کہا کہ حکومت میں آئے تو قومی ادارے تباہ حال تھے، اداروں کی بہتری اور کاروبار کے لیے روڈ میپ دیا ہے، زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ملائیشیا نے سیاحت پر 20 ارب ڈالر خرچ کیے اور سیاحت سے سوئٹزر لینڈ 80 ارب ڈالر سالانہ کما رہا ہے جب کہ ہمارے شمالی علاقوں میں سوئٹزر لینڈ سے زیادہ خوبصورت پہاڑ ہیں۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...