چین سے اب تک 172 پاکستانی وطن واپس پہنچ چکے: ایوی ایشن ذرائع

2 پروازیں چین سے براہ راست اور ایک پرواز دوحا سے اسلام آباد پہنچی ہے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ایوی ایشن ذرائع کا کہناہےکہ تین پروازوں کے ذریعے اب تک 172 پاکستانی چین سے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق 2 پروازیں چین سے براہ راست اور ایک پرواز دوحا سے اسلام آباد پہنچی ہے، ان پروازوں کے ذریعے 183 مسافر اسلام آباد پہنچے جن میں 172 پاکستانی شامل ہیں۔ ایوی ایشن ذرائع نے بتایا کہ رات گئے پرواز کیوآر 632 دوحا سے 40 طلبہ کو لے کر اسلام آباد پہنچی اور پروازسی زیڈ 6007 ارومچی سے61 مسافروں کولےکراسلام آباد پہنچی جن میں 11 مسافر چینی اور 50 پاکستانی شامل تھے۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پرواز سی زیڈ5241 ارومچی سے 82 مسافروں کو لے کر اسلام آباد پہنچی جس میں تمام مسافر پاکستانی تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیجنگ سے آج شام پرواز سی اے 945 کے اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے۔

( خبر جاری ہے )

چین سے دنیا میں پھیلنے والا ’کورونا وائرس‘ اصل میں ہے کیا؟
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرسز ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔ یہ وائرس عام طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سارس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلیوں کی ایک خاص نسل Civet Cats جسے اردو میں مشک بلاؤ اور گربہ زباد وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس سے انسانوں میں منتقل ہوا جبکہ مرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص نسل کے اونٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

اس کی علامات کیا ہیں؟
ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔ اس وائرس کی شدید نوعیت کے باعث گردے فیل ہوسکتے ہیں، نمونیا اور یہاں تک کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
یہ کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق کورونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ اس وائرس کی ایک اور قسم سارس ہے جس سے 3-2002 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 800 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور یہ وائرس بھی چین سے پھیلا تھا۔

ماہرین صحت کی ہدایات
ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری انفلوئنزا یا فلو جیسی ہی ہے اور اس سے ابھی تک اموات کافی حد تک کم ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق لوگوں کو بار بار صابن سے ہاتھ دھونے چاہئیں اور ماسک کا استعمال کرنا چاہیئے اور بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کرنی چاہیئے۔

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...