کورونا وائرس: چین میں مہنگائی 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

چین میں خطرناک کورونا وائرس کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے

امریکی ادارے بلوم برگ کی جانب سے کیے گئے سروے میں مہنگائی کی شرح 4.9 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی تاہم جنوری کے مہینے میں یہ شرح 5.4 فیصد رہی جو کہ اکتوبر 2011 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے جب یہ 5.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

شنگھائی(ویب ڈیسک) چین میں خطرناک کورونا وائرس کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ چین کو پہلے ہی مقامی معاشی سست روی کا سامنا تھا اور اب کورونا وائرس کی وجہ سے کاروبار، سفر اور سپلائی چین بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ جنوری کے مہینے میں چین میں صارف اشاریہ قمیت، جو کہ افراط زر (مہنگائی) کی پیمائش کا ایک اہم پیمانہ ہے، 5.4 فیصد پر رہی جو دسمبر کے مہینے میں 4.5 فیصد کی سطح پر تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ خنزیر کے گوشت اور سبزیوں کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ عمومی طور پر غذائی اجناس کی قیمتوں میں 20.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔امریکی ادارے بلوم برگ کی جانب سے کیے گئے سروے میں مہنگائی کی شرح 4.9 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی تاہم جنوری کے مہینے میں یہ شرح 5.4 فیصد رہی جو کہ اکتوبر 2011 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے جب یہ 5.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

چین کے قومی بیورو برائے شماریات کا مہنگائی کی شرح میں اضافے کی وجہ صرف سال نو کے موقع پر اشیاء کے طلب میں اضافہ نہیں بلکہ اس کا تعلق کورونا وائرس سے بھی ہے۔ جاپانی مالیاتی کمپنی نومورا ہولڈنگ کے لو ٹِنگ نے گزشتہ ہفتے اپنے تحقیقی نوٹ میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مختلف شہروں میں لاک ڈاؤن کی صورتحال اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے غذائی اجناس خاص طور پر پھل، سبزیاں اور گوشت بڑے شہروں تک پہنچنے سے قبل ہی خراب ہوسکتی ہیں۔ لو ٹنگ کا مزید کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے خوف کا ماحول ہے اور ایسے میں لوگ زیادہ سے زیادہ خوراک ذخیرہ کرنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ میں اشیاء کی قلت ہوجاتی ہے اور پھر قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔

خیال رہے کہ چین میں کورونا وائرس سے اب تک 900 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس چین میں افریقن سوائن فیور کی وجہ سے بڑی تعداد میں سور ہلاک ہوگئے تھے اور اس کے گوشت کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں، دسمبر 2019میں سور کے گوشت کی قیمت میں 97 فیصد جبکہ جنوری 2020 میں 116 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق چین میں پروڈیوسر پرائس انڈیکس میں بھی جنوری میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا حالانکہ دسمبر 2020 میں اس میں 0.5 فیصد کمی ہوئی تھی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس ماہ فیکٹریوں کو ملنے والے مال کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا جس سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...