خیبرپختونخوا میں بچوں پر تشدد کے ملزمان کے لیے سخت سزا کا قانون تیار

اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے علاوہ محکمہ قانون، سوشل ویلفیئر اور پولیس کے نمائندوں نے شرکت کی

بچوں پر جنسی تشدد کرکے قتل کرنے والے ملزمان کو سزائے موت اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے، ملزم کو سزائے موت اور پھانسی کی ویڈیو تشہیر کی زیلی شق بھی تجاویز میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ عمر قید کی سزا پانے والے مجرم کو طبعی موت تک سزا دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسکے علاوہ پورنو گرافی میں ملوث افراد کی سزا 7 سال سے 14 سال قید کرنے اور 50 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا بھی تجاویز میں شامل ہے، جنسی ہراسانی میں ملوث ‌‌شخص کی سزا 7 سال سے بڑھا کر 14 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ کی بھی تجویز کی گئی ہے، بدفعلی کے مرتکب شخص پر بچوں کے ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں سفر کرنے پر پابندی کی تجویز بھی شامل ہے، ہراسانی میں مرتکب کسی بھی شخص کو تعلیمی ادارے میں ملازمت نہ دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے

پشاور(ویب ڈیسک)خیبر پختونخوا میں بچوں پر تشدد کرنے والے ملزمان کو سخت سزائیں دینے کے لیے قانون تیار کرلیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر مشتاق غنی کی صدارت میں ہوا جس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے علاوہ محکمہ قانون، سوشل ویلفیئر اور پولیس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں سب کمیٹیوں کی جانب سے تجاویز پیش کی گئیں اور چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر ایکٹ 2010 میں ترامیم کے حوالے سے تجاویز کو حتمی شکل دی گئی۔

 

تجاویز کے مطابق بچوں پر جنسی تشدد کرکے قتل کرنے والے ملزمان کو سزائے موت اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے، ملزم کو سزائے موت اور پھانسی کی ویڈیو تشہیر کی زیلی شق بھی تجاویز میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ عمر قید کی سزا پانے والے مجرم کو طبعی موت تک سزا دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسکے علاوہ پورنو گرافی میں ملوث افراد کی سزا 7 سال سے 14 سال قید کرنے اور 50 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا بھی تجاویز میں شامل ہے، جنسی ہراسانی میں ملوث ‌‌شخص کی سزا 7 سال سے بڑھا کر 14 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ کی بھی تجویز کی گئی ہے، بدفعلی کے مرتکب شخص پر بچوں کے ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں سفر کرنے پر پابندی کی تجویز بھی شامل ہے، ہراسانی میں مرتکب کسی بھی شخص کو تعلیمی ادارے میں ملازمت نہ دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

 

جنسی ہراسانی میں ملوث شخص کی تفصیلات چائلڈ کمیشن کے ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے جب کہ پرائمری سطح تک بچوں کو تعلیم خواتین اساتذہ کے ذریعے دینے کی تجویز دی گئی ہے، بچوں پر تشدد کے مقدمات ماڈل پولیس اسٹیشن میں رجسٹرڈ کرنے، اور ماڈل کورٹ میں سماعت کی جائے گی، کمیٹی میں ملزمان کو سرعام پھانسی کی بھی تجویز سامنے آئی تو فیصلہ کیا گیا اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا اور نظرثانی کی اپیل دائر کی جائے گی۔ پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے ایکٹ کی منظوری کے بعد محکمہ قانون مسودہ تیار کرکے کابینہ میں پیش کریں گے اور کابینہ کے بعد ایکٹ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، اسپیکر اسمبلی مشتاق غنی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں پر جنسی تشدد کرنے والے ملزمان کے لیے ایسی سزائیں تجویز کریں گے جو عبرتناک ہونگیں، اسپیشل کمیٹی نے ایکٹ کی تیاری کے حوالے سے کافی محنت کی ہے اور ایکٹ تیار کرکے اب کابینہ میں پیش کیا جائے گا اور اس کی منظوری اسمبلی سے لی جائے گی۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...