دنیا بھر میں کورونا وائرس کے 39،674 مریض صحتیاب ہوگئے

دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کے باعث لوگ خوف کا شکار ہیں

کورونا وائرس کےمجموعی طور پر 85 ہزار 683 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 46 فیصد سے زائد یعنی 39 ہزار 674 افراد صحتیاب ہو کر اسپتالوں سے جا چکے ہیں جب کہ باقی 43 ہزار مریضوں میں سے 82 فیصد یعنی 35 ہزار 258 کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے 7 ہزار 818 مریضوں کی حالت خطرے میں ہے

اسلام آباد(ویب ڈیسک)دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کے باعث لوگ خوف کا شکار ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اب اس وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں میں سے   تقریباً نصف مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔ کورونا وائرس کےمجموعی طور پر 85 ہزار 683 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 46 فیصد سے زائد یعنی 39 ہزار 674 افراد صحتیاب ہو کر اسپتالوں سے جا چکے ہیں جب کہ باقی 43 ہزار مریضوں میں سے 82 فیصد یعنی 35 ہزار 258 کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے 7 ہزار 818 مریضوں کی حالت خطرے میں ہے۔

 

کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز چین میں سامنے آئے ہیں جن کی تعداد 79 ہزار 257 ہے جب کہ دوسرے نمبر جنوبی کوریا میں 3 ہزار 150 اور اٹلی میں 889کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں کے حساب سے سب سے زیادہ چین میں 2 ہزار 835 لوگ ہلاک ہوئے جب کہ دوسرے نمبر پہ ایران ہے جہاں آج مزید 9 مریضوں کی ہلاکت کے بعد تعداد 43 ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کے 61 ممالک میں کورونا COVID-19 وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت تک صرف دو افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک 22 سالہ نوجوان کراچی میں جب کہ دوسرا شخص اسلام آباد میں زیرعلاج ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں مریضوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کو کورونا وائرس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ احتیاط کرکے اس وائرس سے  بچا جا سکتا ہے۔

 

کورونا وائرس کی علامات
کورونا وائرس کی عمومی علامات میں زکام اور اس کے ساتھ ساتھ بخار اور کھانسی شامل ہیں۔ تاہم کچھ مریضوں بالخصوص معمر افراد اور دائمی امراض کا شکار افراد میں یہ نمونیا کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس کے ساتھ تھکاوٹ، سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری بھی شامل ہیں۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق اس کا آغاز بخار کے ساتھ ہوتے جس کے بعد خشک کھانسی شروع ہوتی ہے اور اس کے ایک ہفتے بعد سانس میں دشواری کی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور تقریباً 20 فیصد مریضوں کو اس موقع پر اسپتال میں علاج کی ضرورت درپیش آتی ہے۔ لیکن یہاں یہ بات واضح رہے کہ گلے میں خرابی، چھینکیں اور ناک کا بہنا صرف سردی لگنے کی بھی عام علامات ہیں اس لیے اس طرح کا ہر مریض کورونا وائرس کا شکار نہیں ہوتا۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...