اسلام میں عورتوں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے،مشتاق احمد خان

مدرسہ جامعہ صراط الجنہ بلوگرام مینگورہ میں ختم بخاری اور تقریب تقسیم انعامات

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخواسینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ اسلامی حکومت کی قیام فرضِ عین ہے جس طرح حضو ر ؐ نے میراث میں درس و تدریس،محراب و منبر اور قران و سنت چھوڑی ہے اسی طرح حضو رؐ نے ایک اسلامی فلاحی حکومت بھی چھوڑی ہے، اسلامی حکومت دین کی قیام اور دین کی غلبہ کا ذریعہ ہوتی ہے،مدرسے بھی اسی مقصد کیلئے بنے ہوئے ہیں،تمام مدرسے علوم ِنبوت، قران وحدیث اور اسلامی انقلاب کے مرکز ہے،مدرسوں میں طلباء و طالبات کی و ہ نسل تیار ہوتی ہیں جنہوں نے قرآن و سنت کو اپنی روح اور شخصیت میں جذب کیا ہوتا ہے اور قرآن وسنت کے مقاصد و جد و جہد کو اپنی زندگی کا مقصد و نصب العین سمجھتے ہیں، مدرسے،علماء اور طلباء امت کے وسیلہ ہے

سوات (زما سوات ڈاٹ کام) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخواسینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ اسلامی حکومت کی قیام فرضِ عین ہے جس طرح حضو ر ؐ نے میراث میں درس و تدریس،محراب و منبر اور قران و سنت چھوڑی ہے اسی طرح حضو رؐ نے ایک اسلامی فلاحی حکومت بھی چھوڑی ہے، اسلامی حکومت دین کی قیام اور دین کی غلبہ کا ذریعہ ہوتی ہے،مدرسے بھی اسی مقصد کیلئے بنے ہوئے ہیں،تمام مدرسے علوم ِنبوت، قران وحدیث اور اسلامی انقلاب کے مرکز ہے،مدرسوں میں طلباء و طالبات کی و ہ نسل تیار ہوتی ہیں جنہوں نے قرآن و سنت کو اپنی روح اور شخصیت میں جذب کیا ہوتا ہے اور قرآن وسنت کے مقاصد و جد و جہد کو اپنی زندگی کا مقصد و نصب العین سمجھتے ہیں، مدرسے،علماء اور طلباء امت کے وسیلہ ہے، جتنا کردار اسلام میں مردوں نے ادا کیا ہے اتنا ہی کردار عورتوں نے بھی ادا کیا ہے،اسلام میں عورتوں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے،ہر جہاد میں عورتیں حضور ؐ کی شانہ بشانہ کھڑی ہوئی ہے،دین صر ف مردوں کا نہیں بلکہ دین کی غلبہ اور جد وجہد میں مکمل طور پر عورتوں نے حصہ لیا ہے.

اسلام میں مردوں اور عورتوں کا اپنا پنادائرہ میدان کار اور دائرہ جد وجہد ہے،اپنے اپنے دائرہ جد وجہد اور میدانِ کار میں رہ کرعلومِ نبوت و اشاعت کیلئے ہمہ گیر جد وجہد ہر مرد و عورت کا فرض ہے۔ان خیالات کا اظہار سینیٹر مشتاق احمد خان نے مدرسہ جامعہ صراط الجنہ بلوگرام مینگورہ میں ختم بخاری اور تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے کیااس انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ سے چھٹکی بھر عورتیں عورتوں کی حقوق کے تحفظ کیلئے نکلی ہے لیکن نعرہ یہ لگارہی ہیں کہ میرا جسم میری مرضی،یہ عورتیں فارن فنڈڈ این جی اوز کی عورتیں ہے،خواتین کی حقو ق اور اسلام سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں،یہ ثقافتی دہشت گرد عورتیں ہیں جو ہماری ثقافت، ایمانوں اور غیرت کو چیلنج کر رہی ہیں،یہ عورتیں پاکستان میں مغربی کلچر لانا چاہتی ہے،مغربی کلچر نے عورتوں کا جتنا استحصال کیا وہ تاریخ میں کسی تہذیب نے نہیں کیا،یورپ میں 10 میں سے 4 بچوں کو اپنا باپ معلوم نہیں،اس وقت یورپ اور امریکہ میں طلاق کی شرح 80 فیصد ہے،اسلام نے عورتوں کو تعلیم کا حق،صحت کا حق،مہر کا حق، ملکیت کا حق،وراثت کا حق اور تحفظ کا حق دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسلام نے عورت سے مرد نہیں بنایا،آج اگر عورتوں کو حقوق نہیں مل رہے تویہ ان لبرل اور سیکولر لوگوں کی وجہ سے نہیں مل رہے جو تین تین چارچار بار اقتدار میں آئے لیکن عورتوں کو حقو ق نہیں دیئے،آج وہ لوگ اِن عورتوں کی صفوں میں موجود ہے اور انکی حقو ق کی بالادستی کی با ت کر رہے ہیں،اگر واقعی میں یہ لوگ عورتوں کی حقو ق کی باتیں کرتے تو آج یہ فلسطین،عراق،شام اور کشمیر کے عورتوں کیلئے اپنی آوازیں بلند کرتے،جنکی سروں سے زبر دستی دوپٹے چھینے جارہے ہیں،جنکی عزتوں کو مجروح کیا جارہاہیں، 23 ہزار عورتوں کو کشمیر میں بھارتی فوج نے بیوائیں بنادی۔انہوں نے مزیدکہا کہ جماعت اسلامی غلبہ دین اور اقا مت دین کی تحریک ہے،جماعت اسلامی کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان میں قرآن و سنت کانظام قائم ہوجائے،پاکستان کی اسلامی شناخت اسلامی نظام اور ختم نبوت ہے سیکولرازم یا لبر ل ازم نہیں،سیکولر اور لبرل لوگ آج پاکستان سے اسلامی نظام اور ختم نبوت کیخلا ف سازشیں کر رہے ہیں لیکن ہم ان سازشیوں کو کامیا ب نہیں ہونے دیں گے۔تقریب سے امیر جماعت اسلامی ضلع سوات محمد امین نے بھی خطاب کیا۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...