سوات پولیس نے اندھے قتل کے تین مقدموں کا سراغ لگا لیا

دو ملزمان گرفتار کر کے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا

سوات پولیس نے پولیس اہلکار کے قتل سمیت تین قتل کیس کا سراغ لگا لیا،قاتلوں کو گرفتار کر کے آلہ قتل بھی بر آمد کرلیا۔پولیس کے مطابق پچھلے تین مہینوں کے اندر نامعلوم ملزمان کی جانب سے تین افراد کو قتل کیا گیا جس میں 26جنوری کو میاں نور محمد اپنی دکان بند کر کے گھر جا رہا تھا کہ نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے قتل کرلیاتھا۔20فروری کو تھانہ کانجو کی حدود میں شمس الدین کو نامعلوم افراد نے قتل کیا تھا جبکہ3مارچ کو تھانہ شاہ ڈھیرئی کی حدود میں عثمان علی نامی لڑکے کو نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔

سوات (زما سوات ڈاٹ کام)سوات پولیس نے پولیس اہلکار کے قتل سمیت تین قتل کیس کا سراغ لگا لیا،قاتلوں کو گرفتار کر کے آلہ قتل بھی بر آمد کرلیا۔پولیس کے مطابق پچھلے تین مہینوں کے اندر نامعلوم ملزمان کی جانب سے تین افراد کو قتل کیا گیا جس میں 26جنوری کو میاں نور محمد اپنی دکان بند کر کے گھر جا رہا تھا کہ نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے قتل کرلیاتھا۔20فروری کو تھانہ کانجو کی حدود میں شمس الدین کو نامعلوم افراد نے قتل کیا تھا جبکہ3مارچ کو تھانہ شاہ ڈھیرئی کی حدود میں عثمان علی نامی لڑکے کو نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔

پولیس کے مطابق ایس پی انوسٹی گیشن نذیر خان نے مختلف ٹیمیں تشکیل دیکرجلد از جلد ملزمان کو گرفتار کرنے کے لئے کاروائی شروع کی۔ انوسٹی گیشن ٹیم ایس پی لوئر سوات شاہ حسن خان، ڈی ایس پی کبل اکبر شنواری، ایس اُو تھانہ کانجو انسپکٹر گل شید خان، OIIتھانہ کانجو انسپکٹر طاہر شاہ خان، ایس ایچ اُو تھانہ شاہ ڈھیری ایس آئی عثمان علی، OIIتھانہ شاہ ڈھیری ایس آئی فضل وہاب خان اور انچارج کمپیوٹر لیب ASIگوہر خان نے دن رات محنت کرکے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے تھانہ کانجو کے دونوں مقدمات جن میں شمس الدین اور میاں نور محمد کو قتل کیا گیا تھا، ملزم سجاد علی ولد بشیر احمد ساکن محلہ نعمت آباد کانجو بعمر 34سال کو گرفتار کیا۔ جس نے دونوں وقوعوں کو تسلیم کرکے انکشاف کیا کہ مقتول شمس الدین اس کا دوست تھا اور مقتول میاں نور محمد کے قتل میں اس کے ساتھ تھا بعد میں اس کوشک ہوا کہ شمس الدین اس کا راز فاش کرے گا تو اس وجہ سے اس کو قتل کیا ملزم سے آلہ جرم اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

اس طرح پولیس نے تھانہ شاہ ڈھیریء کے حدود میں قتل ہونے والے عثمان علی کے قاتل رضوان اللہ ولد حاجی محمد افضل ساکن سرگند کلے ہری چند چارسدہ کو شامل تفتیش کرکے جس نے وقوعہ کو تسلیم کیا۔ جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ مقتول عثمان علی کو دیگر کسان کے ذریعے قتل کیا گیا ہے اس وقوعہ میں ایک سپیشل پولیس فورس کا اہلکارسردار بھی ملوث ہے جس کو گرفتار کیا گیا ہے۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...