یکم مئی کو پاکستان کو ایک اور خوشخبری ملے گی: حفیظ شیخ

اسلام آباد(ویب ڈیسک)مشیر خزاجہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے یکم مئی کو پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی ایک اور خوشخبری ملے گی۔ مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ جب حکومت آئی تو بحرانی کیفیت تھی، ڈالرکی کمی تھی اور قرضےزیادہ تھے، ہم نے کوشش کر کے 17 بلین ڈالرز آئی ایم ایف اور دیگر ممالک سے حاصل کیے، آئی ایم ایف کے ساتھ خصوصی پروگرام سے 6 بلین ڈالر ملے جب کہ ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور عالمی برادری ہمارےساتھ کھڑی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومتی اخراجات سختی سے کنٹرول کیے، ہم نے اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیے، کوئی سپلیمنٹری گرانٹ نہیں دی، ملٹری بجٹ منجمد کیا اور سویلین بجٹ بھی 40 ارب روپے کم کیا۔

صوبوں کو ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ رقم دی
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے دو جگہ پیسے دیے، ایک بزنس کو مراعات دینے کے لیے تاکہ ایکسپورٹ ہو، دوسرا کمزور طبقے کو 180 ارب روپے کا تاریخی پیکیج دیا، صوبوں کو ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ رقم دی۔ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے پہلے ہماری معیشت مستحکم اور اچھی سمت میں جا رہی تھی، روپیہ مستحکم ہو چکا تھا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب روپے سےکم کر کے 3 ارب روپے پر لا چکے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس ہمارے لیے بہت برے وقت پر آیا، معیشت کو دھچکا لگا، دنیا بھر میں لاک ڈاؤن ہے اور دنیا بھر کی معیشت میں 3 فیصدسکڑاؤ ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے لوگ جو دیگر ممالک میں کام کر رہے ہیں ان کی مالی حیثیت متاثر ہوگی، کورونا سے پیدا صورتحال کے باعث ٹیکس محصولات متاثر ہوں گے، ٹیکس محصولات 3 ہزار ارب ہوئے جو 17 فیصدکی رفتارسےبڑھ رہےتھے اب متاثر ہوں گے۔

پیٹرول کی قیمت میں خاطر خواہ کمی ہوگی
مشیر خزانہ کا کہنا ہے کہ 5 سال بعد ایکسپورٹ بڑھنا شروع ہوئی تھی جو اب متاثر ہو گی، اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ معیشت 3 فیصد بڑھنے جارہی تھی اب 1سے ڈیڑھ فیصدہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں تیل اور توانائی کی قیمت میں تاریخی کمی آئی ہے، پٹر ول اور ڈیزل کی قیمت میں گزشتہ ماہ بھی 15، 15روپے کمی کی، یکم مئی کو پاکستان کو ایک اور خوشخبری ملے گی، پیٹرول کی قیمت میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ نے کہا کہ پٹراول کی قیمت کم ہونے سےٹرانسپورٹ کا خرچہ کم ہو گا، تمام چیزوں کی قیمتوں میں فرق پڑے گا۔

موقع ہے زراعت کے شعبے میں کچھ بڑے فیصلے کریں
حفیظ شیخ نے بتایا کہ کورونا کی صورتحال میں ہمارے عالمی دوست لچک دکھا ر ہے ہیں اور مراعات دینے کے لیے راضی ہیں، موقع ہےکہ آنے والے 2 ماہ میں ایسےمشکل کام کر جائیں جو عام حالت میں ممکن نھیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر کورونا وائرس سے کم سے کم متاثر ہو گا ہمیں آئی ٹی میں محنت کرنا ہوگی، موقع ہے کہ زراعت کے شعبے میں کچھ بڑے فیصلے کریں، زراعت میں بیچ کی کوالٹی بہتر کریں اور پانی کی مینجمنٹ بہتر بنائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کھاد کی قیمتوں میں کافی حد تک کمی کی، مزید کمی کی کوشش کرنا چاہیے، پیکیج کے تحت اس وقت 82 لاکھ ٹن گندم پری کیور کی جا رہی ہے، 280 ارب روپے کاشت کاروں کو ملیں گے۔

ملک میں بجلی کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہے،
مشیر خزانہ نے کہا کہ کنسٹرکشن سیکٹر میں سرمایہ کاری سے ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائے گا، کنسٹریکشن سیکٹر سے 35 سے 40شعبوں میں روزگار بڑھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام چھوٹے کمرشل انٹرپرائزز کو بجلی کے بل معاف کیے جائیں گے، گزشتہ 3 ماہ میں جتنا خرچ ان چھوٹے بزنسز کا بجلی پر ہوا اتنی بجلی ان کو مفت دی جائے گی، اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہے، 72 فیصد بجلی صارفین کو سبسڈی دی جارہی ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ مستقبل میں بھی تیل کم قیمت پر مل سکے اور اس میں کافی پیشرفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ 38 ارب ہر ماہ بڑھ رہا تھا لیکن اب رفتار کم ہو گئی ہے، آئی پی پیز کے ساتھ پرانے معاہدے بھی مسئلہ ہیں، ہماری کوشش ہے کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔

کاروباری طبقے کو ریلیف ملے گا تو معیشت بہتر ہوگی
حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ احساس پروگرام شفافیت کے ساتھ بلاتفریق جاری ہے، کورونا کی وجہ سے بیروزگارہونے والے 40 لاکھ افراد کو ریلیف فراہم کریں گے، چھوٹے تاجروں کے لیے 1سے 3 فیصدسود کے ساتھ قرضوں سےمتعلق اسکیم لائی جائے گی کیونکہ کاروباری طبقے کو ریلیف ملے گا تو معیشت بہتر ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ جون کے پہلے ہفتے میں بجٹ لانے کا طے کیا ہے، یہ کورونا بجٹ ہوگا ، چاہتے ہیں کہ لوگوں کو ریلیف اور امید دی جائے، ہم چاہتے ہیں کہ اخراجات اچھے انداز میں ہوں، پیسے ضائع نہ ہوں کیونکہ یہ عوام کے پیسے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوشش ہے کہ معیشت کو دستاویزی شکل دی جائے لیکن اتنے سخت انداز میں نہ ہو کہ بزنسز متاثر ہوں، کورونا سے لوگوں کا تحفظ کرنا ہے اور معیشت کی بھی حفاظت کرنی ہے، وزیراعظم بار بار کہتے ہیں کہ ہمیں حکمت سے کام لینا ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ دیگر ممالک کے ساتھ کاروباری تعلقات بڑھانے سے ہی ترقی ممکن ہو سکتی ہے، ایکسپورٹ بڑھانی اور امپورٹ کو محدودکرنا ہو گا۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...