نجی تعلیمی اداروں کیلئے ریلیف اور تعلیمی سلسلہ بحال کرنے کا مطالبہ

سوات(زما سوات ڈاٹ کام)ملاکنڈڈویژن کی تعلیمی تنظیموں کا حکومت سے نجی تعلیمی اداروں کو ریلیف دینے اور تعلیمی سلسلہ بحال کرنے کا مطالبہ،جائز مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان بھی کردیا،کرونا کے سبب جہاں دیگر شعبے متاثر ہوئے وہاں نجی تعلیمی ادارے بھی بری طرح متاثرہوچکے ہیں،اس حوالے سے پرائیوٹ ایجوکیشن نیٹ ورک،پرائیویٹ سکول منیجمنٹ،پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی اور دیگرتنظیموں کے عہدیداروں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں پرائیویٹ سکولوں کے پرنسپلز اور ڈائریکٹرز سمیت اساتذہ نے بھی کثیرتعدادمیں شرکت کی،اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے امجدعلی شاہ،عبدالجلیل اوردیگر عہدیداروں نے کہاکہ کرونا کی وجہ سے جس طرح دیگر شعبے متاثر ہوئے ہیں اسی طر ح پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہاہے،اگر ایک طرف ان اداروں میں پڑھنے والے لاکھوں بچوں کا قیمتی وقت بری طرح ضائع ہورہاہے تودوسری طرف ان اداروں میں پڑھانے والے اساتذ ہ اور دیگر سٹاف کی پریشانیاں بھی بڑھ رہی ہیں،انہوں نے کہاکہ تیرہ مارچ کی شام سے جب بچے گھر وں کو واپس آچکے تھے سکول بند کردئے گئے اوراس کے ساتھ اڑھائی ماہ سردیوں کی چھٹیوں کے بعد یکم مارچ کو ادارے کھلنے کے بعد دوبارہ بند ہوگئے،اسی طرح بغیر کسی منصوبہ بندی کے سکولوں کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان بچوں کی تعلیم کا ہوا،اس سلسلے میں ہم نے تمام تر ممبران اسمبلی اوردیگر ذمہ داروں سے ملاقاتیں کیں،درخواستیں دیں،اپیلیں کیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی جبکہ اس حوالے سے ہم نے ہر فورم پر آواز اٹھائی مگر اس کے باوجود کسی بھی ذمہ دارنے توجہ نہیں دی،انہوں نے کہاکہ ہمارے صوبے میں تقریباََ 24لاکھ بچے پرائیوٹ سکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور انہی اداروں سے ڈیڑھ لاکھ اساتذہ ودیگر عملہ کا بھی روزگار وابستہ ہے،مگر ان کے معاش کایہ سلسلہ اچانک رک گیا جس کے باعث ان اداروں کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے جو سنگین مالی بحران کا شکار ہوچکے ہیں،انہوں نے کہاکہ تمام تعلیمی ادارے فیس سے ہی چلتے ہیں جس کا اکثریتی حصہ اخراجات کی مد میں چلاجاتا ہے اورصرف دس سے پندرہ فیصد رقم سکول کیلئے بطورمنافع بچ جاتی ہے،انہوں نے کہاکہ بیشترنے والدین فیس کی ادائیگی سے قاصر ہیں لہٰذہ نجی تعلیم اداروں نے دس اور بیس فیصد فیس معاف کردی ہے،دوسری جانب تعلیمی ادارے شدید مشکلات سے دوچار ہیں جن کے لاکھوں ملازمین بے روزگار ہوچکے ہیں،عمارتوں کے مالکان کرایہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے عمارات خالی کروارہے ہیں،انہوں نے کہاکہ حکومت نے نجی تعلیمی شعبہ کی معاؤنت کیلئے ایلیمنڑی ایجوکیشن فاؤنڈیشن اورفرنٹیئرایجوکیشن فاؤنڈیشن قائم کئے ہیں جو اپنا کام صحیح طورپر ادا نہیں کررہے ہیں جن کے پاس اربوں روپے کا فنڈ موجود ہے لہٰذہ اس فنڈ کو صوبہ بھر کے بچوں کی فیسوں کی ادائیگی کیلئے مختص کیا جائے جس سے نہ صرف والدین کو ریلیف ملے گا بلکہ نجی شعبہ کے ہزاروں اداروں کی بقاء ممکن ہوسکے گی اورہزاروں ملازمین بے روزگاری سے بچ جائیں گے،انہوں نے کہاکہ حکومت نجی تعلیمی اداروں کو کھولے جنہیں ایک مربوط طریقے سے چلانے کیلئے ہمارے پاس موثر پروگرام اور لائحہ عمل موجود ہے جبکہ اس سلسلے میں ایس او پیز پر مکمل عملدرآمدکیا جائے گا،اس موقع پر ابرارالحق،نوررحمان،نثار احمد،عبدالودوداورسوات،دیر،بونیر،شانگلہ،چترال،ملاکنڈاورڈویژن کے دیگر علاقوں کے پرائیوٹ سکولوں اور تنظیموں کے عہدیداراورنمائندے بھی موجودتھے۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...