پیٹرول بحران میں ملوث کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا حکم

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے پیٹرول کے مصنوعی بحران میں ملوث کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔ پیٹرول بحران پر وزیراعظم کو تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ 9 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جان بوجھ کر پیٹرول بحران پیدا کیا، اسٹوریج میں پیٹرول ہونے کے باوجود یکم جون سے پیٹرول کی سپلائی محدود کی گئی۔ تحقیقاتی رپورٹ پر وزیراعظم عمران خان نے پیٹرول کے مصنوعی بحران میں ملوث افراد اور کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ وزیراعظم نے بحران میں ملوث کمپنیوں کے لائسنس معطل اور منسوخ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ ذخیرہ شدہ پیٹرول مارکیٹ میں سپلائی کیا جائے۔

فیول کرائسز کمیٹی عدالت میں چیلنج
دوسری جانب پیٹرول بحران پر بنی ’فیول کرائسز کمیٹی‘ کو پیٹرولیم کمپنیوں نے چیلنج کردیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کمپنیوں کے وکیل نے کہا کہ اوگرا خود ریگولیٹر ہے، وفاقی وزیر کو فیول کرائسز کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار نہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی میں ایف آئی اے کو شامل کرنا بھی غیرقانونی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئل کمپنیوں کی درخواست پر وزارت توانائی، اوگرا، فیول کرائسز کمیٹی اور ایف آئی اے کو 25 جون کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔ خیال رہے کہ ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد یکم جون سے مختلف شہروں میں پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی، پیٹرول کی سپلائی نہ ہونے کے باعث متعدد پیٹرول پمپس بند جب کہ جو کھلے ہوئے تھے وہاں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی تھیں۔ میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ملک میں ہونے والے پیٹرول بحران کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر پیٹرولیم عمرایوب خان سے واقع کی رپورٹ طلب کی تھی۔ وزیر پیٹرولیم عمر ایوب خان نے 72 گھنٹوں میں پیٹرول کی سپلائی نارمل ہونے کا دعویٰ کیا تھا تاہم وفاقی وزیر کے دعوے کے بعد بھی ملک کے کئی شہروں میں پیٹرول کی قلت برقرار ہے۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...