نیشنل بینک کے انتظامیہ کے خلاف ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین کا احتجاج

سوات (زما سوات ڈاٹ کام) نیشنل بینک کے انتظامیہ کے خلاف بینک سے ریٹائرڈ ملازمین اور حاضر سروس ملازمین کا پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ، مطالبات کے حق میں نعرہ بازی، مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ریٹائرڈ ایس وی پی شجاع الملک، ریٹائرڈ ایس وی پی پیر محمد خان، ریٹائرڈ ایس وی پی زرین زادہ خان، ریٹائرڈ گریڈ ون آفیسر جوان بخت اثیر،ریٹائرڈ اے وی پی حاجی محمد علی اور دیگر نے کہا کہ نیشنل بینک کے انتظامیہ نے1999 میں 70 فیصد پنشن کے بجائے 33فیصد کردیا ہے جس کے خلاف ہم نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردیا، فاضل عدالت نے پنشنرز کے حق میں فیصلہ سنا یا، جس کے بعد بینک انتظامیہ نے ہائی کورٹ ڈبل بینچ میں اپیل کی جس پر فاضل عدالت نے فیصلہ برقرار رکھ کر فیصلہ پھر پنشنرز کے حق میں سنایا، اس کے بعد بینک انتظامیہ نے 2017میں سپریم کورٹ میں اپیل کی جس پر سپریم کورٹ نے بھی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے پنشنرز ملازمین کے حق میں فیصلہ سنایا،انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف 2017میں بینک نے سپریم کورٹ میں ریو پوٹیشن کیلئے درخواست دائر کی، لیکن تین سال سے ریوپوٹیشن پر کوئی عمل درآمد نہ ہوسکا ،اسی دوران 25فیصد ریٹائرڈ ملازمین وفات پا چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی پاسداری کی جائے اور ہمیں ہمار حق دیا جائے، انہوں نے کہا کہ اسی طرح حاضر سروس سٹاف بھی کافی مشکلات سے دوچار ہے انہوں نے کہا ریگولر سٹاف کیلئے2019پرافٹ بونس کا اجرا کیا جائے،سینیارٹی کی بنیاد پرپروموشن اور پے پیکج 2020-21کا اعلان کیا جائے، 2018-19کا انکریز دیاجائے، کرونا الاؤنس دیا جائے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایم ٹی او نان ایم ٹی او کے سیلری کا فرق ختم کیا جائے اور فوراً نافذ کیا جائے،کانٹریکجول اور اوٹ سورس سٹاف کو فوری طور پر کنفرم کیا جائے،انہوں نے کہا کہ نیشنل بینک آف پاکستان جیسے منافع بخش ادارے کو نا اہل اور سفارشی لوگوں کی بھرتی سے تباہ نہیں ہونے دیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے جائز مطالبات پر غور کرکے ہمیں ہمارا حق دیدے، اگر ہمارے مطالبات پر غور نہ کیا گیا تو ہم احتجاجی تحریک شروع کریں گے اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...