نجی تعلیمی ادارے 15 اگست سے کھلیں گے،آل پارٹیز کانفرنس

سوات (زما سوات ڈاٹ کام) آل پارٹیز کانفرنس سوات، فیڈریشن لیڈر شپ، وکلاء برادری نے 15اگست سے تعلیمی ادارے کھولنے کی حمایت اور تائید کا اعلان کردیا، ملک میں تمام اداروں کو کھولنے کے بعد تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا حکومت کے پاس کوئی جواز نہیں، تمام تعلیمی ادارے، دینی مدارس اور تبلیغی مراکز کو ایس او پیز کے تحت کھول دیا جائے، پی ایس ایم اے سوات کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس میں متفقہ قرارداد منظور، سوات پریس کلب میں پرائیویٹ سکولز منیجمنٹ ایسو سی ایشن سوات کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے ضلعی قائدین، سوات ٹریڈز فیڈریشن، ہوٹلز ایسو سی ایشن، سوات بار ایسو سی ایشن، آل سوات کلرکس ایسو سی ایشن کے عہدیداروں نے شرکت کی جبکہ سوات پریس کلب کی نمائندگی سوات یونین آف جرنلسٹس کے صدر محبوب علی نے کی، اے پی سی میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر واجد علی خان، عبداللہ یوسفزئی، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر اور سابق ایم پی اے محمد امین، حافظ اسرار احمد، جے یو آئی سوات کے امیر قاری فتحت اللہ، محمد اعجاز خان، مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق ضلع ناظم سوات محمد علی شاہ خان، ارشاد خان، صادق عزیز، قومی وطن پارٹی کے ضلعی صدر شیر بہادر زادہ خان، رضاء اللہ ایڈوکیٹ، شوکت علی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما ڈاکٹر خالد محمود خالد، پاکستان پیپلز پارٹی ضلع سوات کے صدر عرفان حیات چٹان، علی محمد علیزئی، سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے رہنما عبدالعلی آشنا، سوات ہوٹلز ایسو سی ایشن کے صدر الحاج زاہد خان، سوات بار ایسو سی ایشن کے صدر عنایت اللہ خان ایڈوکیٹ، آل سوات کلرکس ایسو سی ایشن کے صدر علی رحمان، ملک فضل سبحان نے شرکت اور خطاب بھی کیا، پی ایس ایم اے سوات کے صدر احمد شاہ، عبدالجلیل، اختر علی خان، صفدر علی عزیز اور بشیر احمد انے پی سی کی میز بانی کی، آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر متفقہ اعلامیہ جاری کردیا کہ اے پی سی کے تمام شرکاء نجی سکولوں کو 15آگست سے کھولنے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں، حکومت 15آگست کو تمام تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کرے، اگر15آگست کو تعلیمی اداروں کو کھولنے کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی کرنے کی کوشش کی گئی تو سیاسی قیادت اور فیڈریشن شپ قیادت پرائیویٹ سکولز کے پشت پر کھڑی ہوگی، اے پی سی میں فیصلہ ہوا کہ چونکہ پورے ملک کے اندر کوئی بھی شعبہ زندگی بند نہیں رہا اور وبائی صورت حال ختم ہوا ہے اسلئے صرف تعلیمی اداروں کی بندش کا کوئی جواز نہیں رہا لہٰذا حکومت تاریخ پر تاریخ دینے کے بجائے تعلیمی ادروں کو کھولنے میں سہولت کار بنیں، اے پی سی نے مطالبہ کیا کہ حکومت وقت وبائی صورت حال سے تعلیمی اداروں کو پیدا ہونے والے معاشی مشکلات حصوصی تعان کی یقین دہانی کرانے اور تعلیمی اداروں کے ساتھ دینی مدارس اور تبلیغی مرکز کو بھی کھول دیا جائے۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...