سوات میں سرعام پھانسی کا مطالبہ زور پکڑ گیا

سوات (زما سوات ڈاٹ کام ۔ خصوصی فیچر ) گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتیوں اور بعد ازاں قتل کرنے کے خلاف سوات کے لوگوں میں شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے جبکہ سرعام پھانسی کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے ۔

پولیس کے  مطابق 23ستمبر کو قندیل مدین میں 13 سالہ بچے کی لاش بر آمد کی گئی تھی جسے جنسی ذیادتی کے بعد پھانسی دے دی گئی تھی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچے کے ساتھ دو دفعہ ذیادتی کی گئی، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے

پولیس ذرائع کے مطابق دوسرا واقعہ بحرین میں پیش آیا تھا جہاں پر چھ سالہ گونگے بہرے بچے کو جنسی تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا جبکہ 23 ستمبر کو ایک45 سالہ شخص نے برہ بانڈئی کے علاقے میں پانچ سالہ بچی کے ساتھ جنسی ذیادتی کی کوشش کی تھی جسے مقامی لوگوں نے ناکام بنا دی تھی

مدین میں ہی 10 سالہ بچے کی لاش کھیتوں سے بر آمد کی گئی تھی

سوات میں بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتیوں کےپے درپے واقعات نے لوگوں کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے ۔ مدین میں گزشتہ روز سول سوسائیٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا اور ملزمان کو سر عام پھانسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

سابقہ ناظم بحرین حبیب اللہ ثاقب نے اس حوالے سے بتایا کہ سوات میں بچوں کے ساتھ ذیادتیوں کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس سے بے یقینی اور بد امنی کی فضاء پیدا ہو گئی ہیں ” واقعات میں اضافہ پولیس کی ناکامی کا ثبوت ہے ، گرفتار ملزمان کو سر عام پھانسی دی جائے تب ہی یہ واقعات کم ہو سکتے ہیں "

جماعت اسلامی ضلع سوات کے امیر محمد امین کا کہنا ہے کہ جب تک سخت سے سخت سزائیں نہیں دی جاتی تب تک یہ واقعات رو نما ہوتے رہیں گے” حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ سخت سے سخت قانون سازی کی جائے تاکہ آئیندہ کوئی بھی ہمت نا کرسکیں "

سماجی کارکن ظفر حیات نے بتایا کہ سوات پہلے سے بد امنی کا شکار رہا ہے اب بچوں کے قتل عام اور ذیادتیوں نے خوف کی نئی لہر کو پروان چڑھایا ہے ” ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے ، جب تک ملزمان کو سر عام پھانسی نہیں ملتی تب تک ہمارے بچے غیر محفوظ ہیں”

اس حوالے سے سوات کی پولیس ڈیپارٹمنٹ کا موقف ہے کہ واقعات میں ملوث تمام ملزمان کو بروقت کارروائی میں گرفتار کیا گیا ہے اور قانون کے مطابق ہی ان کو سزائیں دی جائیں گی۔

سوات میں بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتیوں کے بعد بیشتر والدین اپنے بچوں کو گھروں سے باہر نہیں جانے دے رہے ، مینگورہ کے رہائشی انور علی کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ وہ کسی درندہ صفت انسان کا شکار ہو” ہم نے اپنے بچوں کو اس ڈر سے گھروں تک محدود کردیا ہے کہ ان کو باہر کوئی نقصان نا پہنچائے، موجودہ حالات  میں ہمارے بچے محفوظ نہیں اور نا ہی ہمیں پولیس اور یہاں کے قوانین پر اعتماد ہے "

سوات میں جنسی ذیادتیوں کے بعد لوگ یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ سخت سے سخت قانون سازی کی جائے اور ملزمان کو سر عام پھانسی دی جائے، تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ سوات سمیت ملک بھر میں یہی صورت حال ہے  جب تک اسمبلی کے فلور پر سخت قوانین کا بل منظور نہیں کیا جاتا تب تک یہ واقعات یونہی ہوتے رہیں گے۔

( خبر جاری ہے )

ملتی جلتی خبریں
Comments
Loading...